نورالحق حصہ اوّل — Page 115
روحانی خزائن جلد ۸ ۱۱۵ نور الحق الحصة الاولى ولكنّى كلفت نفسى لكم بما رأيتكم من قبائل الشرفاء مگر میں نے تمہارے لئے یہ کلفت اٹھائی کیونکہ میں نے شریف قبیلوں میں سے تمہیں پایا اور ووجدتـكـم كـأطلال الأمراء وفى الضرّاء بعد النعماء ، وبما تحققت میں نے دیکھا کہ تم امیروں کے باقی ماندہ نشان اور بعد نعمت کے سختی میں پڑے ہو اور اس لئے بھی کہ ہم میں اور تم میں المصافاة وانعقدت المودّات، فهاجت رحمتی و ماجت شفقتی بہت پیار ہو گیا ہے اور دوستانہ ربط ہو چکا ہے سو میری رحمت اور شفقت تمہارے لئے اٹھی وجذبني بَخْتُكم المحمود ونجمكم المسعود، فأردت أن أجعلكم اور موجزن ہوئی اور تمہارے طالع محمود اور نیک ستارہ نے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا سو میں نے چاہا کہ كالسلاطين۔ وسأرجع إليكم مع الجنى الملتقط، فانتظروا بالقلب تمہیں بادشاہ کی طرح بنا دوں ۔ اور میں عنقریب تازہ چنا ہوا میوہ لے کر تمہارے پاس آؤں گا سو آرزو مند دل المغتبط، سترون بيضاء وصفراء كحليلة جميلة زهراء ، وأُوافيكم کے ساتھ میرے منتظر رہو عنقریب تم سونے اور چاندی کے ایسے جلوہ کو دیکھو گے جیسے کہ ایک خوبصورت كالمبشرين المستبشرين فذهب وتركهم مغبونين۔ فما فهموا أنه غَرَّ عورت سامنے آجاتی ہے۔ سو اس نے یہ کہا اور چلا گیا اور ان کو ٹوٹے میں چھوڑ گیا۔ سو انہوں نے نہ سمجھا کہ وطلب المفرّ، وفرحوا بتصور حصول المراد، ولبثوا يرقبونه رقبة وہ دھوکا دے گیا اور بھاگ گیا اور مراد ملنے کے تصور میں وہ خوش ہوئے اور اسی جگہ ٹھہر کر ایسے طور سے اس کی أهلة الأعياد، وينتظرونه انتظار أهل الوداد متنافسين، إلى أن انتظار کرتے رہے جیسا کہ عید کے چاند کی انتظار کی جاتی ہے اور جیسا کہ دوست دوست کا منتظر ہوتا ہے یہاں تک کہ تلبست الشمس كالمتندمين نقابها، وسوّدت كالمحزونين ثيابها، سورج نے شرمندوں کی طرح اپنا منہ چھپا لیا اور ماتم زدہ اور سخت غم ناک لوگوں کی طرح سیاہ کپڑے پہن لئے وألغت كالمخدوعين حسابها، واختفت بوجه مصفر كالمنهوبين۔ (۸۷) اور اپنے وجود کو دھوکا کھانے والوں کے مال کی طرح حساب سے نظر انداز کر دیا اور منہ زرد کے ساتھ ایسا چھپا جیسا کہ وہ