نسیمِ دعوت — Page 455
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵۳ نسیم دعوت اعتراضات ا۔ مسلمان خدا کی نند یا کرتے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ خدا عرش پر بیٹھا ہوا ہے اور چار فرشتوں نے اس تخت کو اٹھایا ہوا ہے۔ اس طرح پر ثابت ہوتا ہے کہ خدا محدود ہے اور قائم بالذات نہیں اور جب محدود ہے تو اس کا علم بھی محدود ہوگا اور حاضر ناظر نہ ہوگا۔ الجواب اے حضرات ! مسلمانوں کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے۔ تمام قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک پڑھو اس میں ہر گز نہیں پاؤ گے کہ عرش بھی کوئی چیز محدود اور مخلوق ہے۔ خدا نے بار بار قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ہر ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا میں ہی پیدا کر نے والا ہوں ۔ میں ہی زمین و آسمان اور روحوں اور ان کی تمام قوتوں کا خالق ہوں ۔ میں اپنی ذات میں (۸۴) آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے ۔ ہر ایک ذرہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے ۔ مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کا میں پیدا کرنے والا ہوں۔ اگر کوئی آریہ قرآن شریف میں سے نکال دے کہ عرش کوئی جسمانی اور مخلوق چیز ہے تو میں اس کو قبل اس کے جو قادیان سے باہر جائے ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔ میں اُس خدا کی قسم کھا تا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھا نا لعنتی کا کام ہے کہ میں قرآن شریف کی وہ آیت دکھاتے ہی ہزار روپیہ حوالہ کروں گا۔ ورنہ میں بادب کہتا ہوں کہ ایسا شخص خود لعنت کا محل ہو گا جو خدا