نسیمِ دعوت — Page 454
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵۲ نسیم دعوت اسلام کا خدا کیسا سچا اور غالب نکلا ۔ اگر یہ انسان کا کام تھا تو کیوں لیکھرام کی پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ میں آریہ صاحبوں سے بادب پوچھتا ہوں کہ یہ پیشگوئی پنڈت لیکھرام صاحب کی جو میری نسبت تھی کہ یہ شخص تین برس کے عرصہ میں ہیضہ سے مر جائے گا کیا یہ در حقیقت پر میشر کی طرف سے تھی۔ پھر ایسے مقابلہ کے وقت لیکھرام کا پر میشر کیوں عاجز رہ گیا اور اگر پنڈت جی نے جھوٹ بولا تھا اور پر میٹر پر افترا کیا تھا تو کیا ایسے مفتری کی یادگار میں قائم کرنا روا ہے جس نے پرمیشر پر جھوٹ بولا۔ دیکھواس مقابلہ میں ہمارے خدا کی کیسی صفائی سے پیشگوئی پوری ہوئی اور میں نے لکھ دیا تھا کہ تمام آریہ صاحبان اب مل کر لیکھر ام کے بچانے کے لئے اپنے پر میشر سے دعا کر لیں مگر پر میشر بچانہ سکا۔ اب بالفعل ہم اسی پر ختم کرتے ہیں۔ وَالسَّلام على من اتبع الهدى ☆۔ خاتمہ آریہ صاحبوں کے بعض اعتراضات کے جواب میں انسان جب بغیر سوچنے سمجھنے کے محض نکتہ چینی کے ارادہ سے مخالفت کی نظر سے دیکھے تو کو کیسا ہی کوئی امر سیدھا اور صاف ہو اس کی نظر میں جائے اعتراض ٹھہر جاتا ہے۔ ایسا ہی آریہ صاحبوں کا حال ہے وہ اس ندامت کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتے جو ایک اعتراض کے غلط اور بے جا ثابت ہونے میں ایک باحیا انسان کے دل پر صدمہ پہنچاتی ہے۔ اب سنئے اعتراضات یہ ہیں جو ہمیشہ اسلام جیسے پاک اور کامل مذہب پر سراسرنا دانی سے کرتے ہیں اور ہم اس وقت وہ اعتراض لکھتے ہیں جو انہوں نے ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء کو قادیان میں جلسہ کر کے اسلام پر کئے اور اس طرح ثابت کر دیا کہ ان کے تعصب اور نا سمجھی اور ناحق کے کینہ کی کہاں تک نوبت پہنچی ہے۔