نسیمِ دعوت — Page 453
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵۱ نسیم دعوت ہے۔ خدا نے تمام کتابوں میں قیامت کی پیشگوئی شائع کر رکھی ہے۔ آریہ صاحبان بھی مہا پر لو کے قائل ہیں مگر وہ پیشگوئی اب تک پوری نہیں ہوئی بلکہ دنیا پہلے سے زیادہ آباد ہوتی جاتی ہے۔ جو پہلے جنگل تھے اب وہاں آبادیاں اور شہر ہیں مگر کیا کہہ سکتے ہیں کہ وہ پیشگوئی جھوٹی نکلی ۔ خدا کی باتوں میں ایک وقت ہوتا ہے۔ وہ اپنے وقتوں میں پوری ہوتی ہیں اور وعید کی پیشگوئی میں تو بہ اور رجوع سے کبھی تاخیر بھی ہو جاتی ہے۔ انسان کی بدذاتی کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی ثبوت نہیں کہ اعتراض کے وقت جھوٹ بولے۔ ایسا ہی آتھم کی موت کی پیشگوئی پر تب اعتراض ہوتا کہ میں اس سے پہلے مرجاتا اور وہ اب تک زندہ ہوتا کیونکہ الہام کا خلاصہ یہ ہے کہ جو مذہب میں جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ الہامی شرط کے موافق اس نے تھوڑے دن فائدہ اُٹھایا پھر پیشگوئی کے مطابق مر گیا اس نے عین مجلس میں قریباً ستر آدمی کے رو بروجن میں نصف کے قریب عیسائی بھی تھے اپنی شوخیوں سے رجوع کیا اور پھر آخر میعاد تک ڈرتا اور روتا رہا۔ اس کو کچھ مہلت دی گئی اور یہ مہلت خدا کی شرط کے (۸۲) موافق اور الہام میں درج تھی اور آخر قبر نے اس کو بلا لیا مگر تعجب کہ آریہ صاحبان کیوں خواہ نخواہ دوسروں کے قصے پیش کرتے ہیں ۔ آپ بیتی کو کیوں اس قدر جلدی سے بھول گئے اور کیوں وہ پنڈت لیکھرام کی پیشگوئی سے فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ ذرا پنڈت لیکھرام کی کتاب کھول کر دیکھیں کہ اس نے میری نسبت اشتہار شائع کیا تھا کہ مجھے پر میشر نے خبر دی ہے کہ یہ شخص تین برس تک ہیضہ سے مر جائے گا اور میں نے بھی خدا تعالیٰ سے الہام پا کر کئی کتابوں میں شائع کر دیا تھا کہ پنڈت لیکھرام چھ برس کے عرصہ تک قتل کے ذریعہ مارا جائے گا اور وہ دن عید کے دن سے ملا ہوا ہوگا اور کچھ عرصہ بعد اس ملک میں طاعون پھیلے گی چنانچہ وہ سب باتیں پوری ہوگئیں اور آپ لوگوں کا بہادر پنڈت لیکھر ام آپ کو نا دم کرنے والا چھ مارچ کو اس دنیا سے رخصت ہو گیا ۔ دیکھو!