نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 566

نسیمِ دعوت — Page 452

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵۰ نسیم دعوت انصافا کہیں کہ ان کے ہاتھ میں بجز پرانے اور بوسیدہ قصوں کے کچھ اور بھی ہے یہی تو وجہ ہے کہ ایک فرقہ نے ان میں سے ایک انسان کو خدا بنا رکھا ہے جو در حقیقت مجھ سے زیادہ نہیں۔ اگر وہ مجھے دیکھتا تو خدا کی نعمتوں کو اس جگہ زیادہ پاتا۔ یہ تو عیسائیوں کا جعلی خدا ہے مگر آریوں نے ایک فرضی خدا انسان کی طرح کمزور اپنی طرف سے تراش لیا ہے جو روحوں اور ذرات اجسام کے پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ اگر ان کو خدا تعالیٰ کی تازہ قدرتوں سے حصہ ہوتا تو وہ جانتے کہ وہ انسان ہونے سے پاک اور ہر ایک بات پر قدرت رکھتا ہے۔ روح کیا حقیقت ہے جو اس کو پیدا نہ کر سکے اور پر مانو کیا چیز ہیں جو ان کی پیدائش پر قادر نہ ہو۔ روحوں کے اندر ایک اور روحیں ہیں اور ذرات کے اندر ایک اور ذرات ہیں سب کا وہی پیدا کرنے والا ہے۔ وہ کبھی اپنی مرضی سے اور کبھی اپنے مقبول بندوں کی دعاسن کر تازہ بتازہ ایجاد کرتا رہتا ہے جس نے اس کو اس طرح پر نہیں دیکھا۔ وہ اندھا ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعمى یعنی جس کو اس جہان میں اس کا درشن نہیں ہوا اُس کو اُس جہان میں بھی اس کا درشن نہیں ہوگا اور وہ دونوں جہانوں میں اندھا رہے گا۔ خدا کے دیکھنے کے لئے اسی جہان میں آنکھیں طیار ہوتی ہیں اور بہشتی زندگی اسی جہان سے شروع ہوتی ہے۔ ان اشتہارات میں جو میرے پر حملہ کرنے کے لئے آریہ صاحبوں نے شائع کئے ہیں میری بعض پیشگوئیوں پر نا سمجھی سے بعض اعتراض بھی کر دیئے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ حال میں یا پہلے لڑکا ہونے کی پیشگوئی تھی اور لڑکی پیدا ہوئی۔ پس اس قدر جواب کافی ہے کہ اگر وہ کتابوں کو دیکھ کر دیانت کے طریق کو اختیار کرتے تو ایسا اعتراض کبھی نہ کرتے ۔ مجھے تو ایسا الہام کوئی یاد نہیں کہ جس کا یہ مضمون ہو کہ اب ضرور بلا فاصلہ لڑ کا پیدا ہوگا ۔ اگر ان کو یاد ہے تو وہ پیش کردیں ورنہ لعنة اللہ علی الکاذبین ہماری طرف سے جواب کافی ا بنی اسرائیل ۷۳