نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 566

نسیمِ دعوت — Page 432

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۳۰ نسیم دعوت ہیں کہ ان کے ملک میں اور ان کی زبان میں خدا کی کتاب نازل ہو۔ پھر دوسرا پہلو اعتراض کا یہ ہے کہ اگر فرض محال کے طور پر یہ بھی خیال کیا جائے کہ وید گل دنیا کے لئے آیا ہے اور خدا تعالیٰ پر یہ بخل جائز رکھا جائے کہ اُس نے دوسرے ملکوں اور قوموں کو اپنے شرف مکالمہ سے ہمیشہ کے لئے محروم رکھا تو اس صورت میں اس قدر تو چاہیے تھا کہ پر میشر وہ زبان اختیار کرتا جو تمام زبانوں کی ماں ہو اور زندہ زبان ہو نہ سنسکرت کہ کسی طرح وہ تمام زبانوں کی ماں نہیں کہلا سکتی اور نہ وہ زندہ زبان ہے بلکہ مدت ہوئی کہ مرگئی اور کسی ملک میں وہ بولی نہیں جاتی۔ ہاں یہ درجہ اتم الالسنہ ہونے کا عربی زبان کو حاصل ہے اور و ہی آج ان تمام زبانوں میں سے جن میں آسمانی کتابیں بیان کی جاتی ہیں زندہ زبان ہے اور ہم نے بڑی تحقیق سے تمام زبانوں کا مقابلہ کر کے بہت سے قوی دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ در حقیت عربی زبان ہی اُم الالسنہ ہے۔ اس لئے وہی زبان اس لائق ہے کہ کل قوموں کو اس زبان میں مخاطب کیا جائے اور ہم نے عربی زبان کے اُم الالسنہ ہونے کے بارے میں ایک کتاب تالیف کی ہے اور جو شخص اس کتاب کو پڑھے گا میں خیال نہیں کرتا کہ بجر تسلیم کے کسی طرف اس کو گریز کی راہ مل سکے کیونکہ اس میں اعلیٰ درجہ کی تحقیقاتوں سے اور ہزارہا مفردات کے مقابلہ سے اور نیز اس علمی خزانہ سے جو عربی مفردات میں پایا جاتا ہے عربی کا تمام زبانوں کی ماں ہونا ثابت کر دیا ہے۔ تیسری وجہ آریہ صاحبوں کے اس اصول کے غلط ہونے کی کہ وید پر پر میشر کی مہر لگ چکی ہے اور اس کے بغیر وحی الہی کا دروازہ بند ہے ہمارا ذاتی تجربہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ قریباً ہر روز خدا تعالیٰ ہم سے کلام کرتا ہے اور اپنے اسرار غیب اور علوم معرفت سے مطلع فرماتا ہے ۔ پس اگر یہ لاف و گزاف در حقیقت وید میں ہے کہ آئندہ وحی کا دروازہ بند ہو گیا تو بعد اس کے ہمیں اس کے جھوٹا ہونے کے لئے کسی اور دلیل کی