نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 566

نسیمِ دعوت — Page 433

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۳۱ نسیم دعوت ضرورت نہیں کیونکہ امور مشہودہ محسوسہ کے برخلاف کہنے والا بالیقین کا ذب اور سخت کا ذب ہوتا ہے جس عالیشان وحی سے ہمیں خدا نے مشرف کیا ہے ہم وید میں اس کا نمونہ نہیں دیکھتے۔ یہ کلام خارق عادت باتوں اور غیب سے پُر ہے جیسا کہ سمندر پانی سے اور اکثر عربی میں جو نبوت کی کلام کی تخت گاہ ہے نازل ہوتا ہے اور کبھی اُردو میں اور کبھی فارسی میں اور بعض اوقات انگریزی زبان میں بھی ہوا ہے اور اگر آریہ صاحبان یہ کہیں کہ کونسا نشان ہے جس سے معلوم ہو کہ یہ خدا کا کلام ہے سو میں کہتا ہوں کیا پنڈت لیکھرام کے متعلق جو پیشگوئی تھی جس میں اُس کے مارے جانے کا دن اور تاریخ بھی درج تھی کیا وہ آریہ صاحبوں کو بھول گئی ۔ کیا وہ ایک ہی پیشگوئی آریہ صاحبوں کے لئے کافی نہیں تھی اور ایسی پیشگوئیاں ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہیں اور ایک فوج گواہوں کی ان کے ساتھ ہے جن میں سے کئی معزز آریہ بھی ہیں۔ پس اس سے زیادہ ہم خدا کے مکالمہ کا اور کیا ثبوت دے سکتے ہیں بلکہ ہم اسی جگہ کے چند آریہ صاحبوں کو بلکہ کئی لاکھ اور آر یہ صاحبوں کو بھی گواہی کے لئے پیش کرتے ہیں۔ اور اس جگہ اس بات کا ذکر کرنا بھی نا مناسب نہ ہوگا کہ بعض نادان ایک لاکھ پیشگوئی کے مقابل پر ایک دو پیشگوئیوں کا ذکر کر کے کہتے ہیں کہ وہ پوری نہیں ہوئیں لیکن یہ خود اُن کا قصور فہم ہے بلکہ کوئی بھی ایسی پیشگوئی نہیں کہ وہ اپنے الفاظ کے مطابق پوری نہیں ہو چکی یا اس میں سے کوئی حصہ پورا نہیں ہو چکا جو دوسرے حصے کے کسی وقت پورا ہو جانے پر گواہ ہے۔ سچی گواہی کو چھپانا اور جھوٹی حجتیں پیش کرنا ان لوگوں کا کام نہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں۔ خاص کر آریہ صاحبوں کو وہ نشان فراموش نہیں کرنا چاہیے جو خدا نے ان کو اپنے زبر دست ہاتھ سے دکھلایا اور کئی کروڑ انسانوں کو اس پر گواہ کیا۔ ایسے زبر دست نشانوں کا انکار کر کے پھر تکذیب کرنا یہ خدا کے ساتھ لڑائی ہے۔ وید کی تعلیمیں ہم نے بطور نمونہ کے بیان کی ہیں اور ہم لکھ چکے ہیں کہ قرآن شریف کی تعلیمیں اس کے مخالف ہیں وہ دنیا میں توحید قائم کرنے آیا ہے اس میں توحید کی تعلیم شمشیر برہنہ