نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 431 of 566

نسیمِ دعوت — Page 431

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۲۹ نیم دعوت مختلف ملکوں کے تعلقات بڑھتے جاتے ہیں۔ سیاحت کے لئے وہ سامان میسر آگئے ہیں جو پہلے نہیں تھے خیالات کے مبادلہ کے لئے بڑی بڑی آسانیاں ہوگئی ہیں۔ ایک قوم دوسری قوم میں ایسی جنس گئی ہے کہ گویا وہ دونوں ایک ہونا چاہتی ہیں۔ بڑے اور مشکل سفر بہت سہل اور آسان ہو گئے ہیں۔ اب روس کی طرف سے ایک ریل طیار ہو رہی ہے کہ جو چالیس دن میں تمام دنیا کا دورہ ختم کرلے گی۔ اور خبر رسانی کے خارق عادت ذریعے پیدا ہو گئے ہیں اس سے پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان مختلف قوموں کو جو کسی وقت ایک تھیں پھر ایک ہی بنانا چاہتا ہے تا پیدائش کا دائرہ پورا ہو جائے اور تا ایک ہی خدا ہو اور ایک ہی نبی ہو اور ایک ہی دین ہو۔ یہ بات نہایت معقول ہے کہ تفرقہ کے زمانہ میں خدا نے جدا جدا ہر ایک ملک میں نبی بھیجے اور کسی ملک سے بخل نہیں کیا لیکن آخری زمانہ میں جب تمام ملکوں میں ایک قوم بننے کی استعداد پیدا ہوگی تب سب ہدایتوں کو اکٹھا کر کے ایک ایسی زبان میں جمع کر دیا جو اُم الالسنہ ہے یعنی زبانِ عربی۔ کیا کوئی کانشنس اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ سنسکرت زبان اور آریہ ورت میں تو کروڑ ہا مرتبہ وید نے جو بقول آریہ پرمیشر کا کلام ہے جنم لیا لیکن کسی اور زبان میں اور کسی اور ملک میں ایک مرتبہ بھی اس کا ظہور نہ ہوا۔ اگر تناسخ کا مسئلہ کچھ چیز ہے تو اس سے ہی ثبوت دینا چاہئے کہ پر میشر نے اس ملک کے لوگوں سے اس قدر کیوں پیار کیا اور دوسرے ملکوں سے کیوں ایسی بیگانگی ظاہر فرمائی کون سے عمدہ اور پاک کرم یہ ملک ہمیشہ کرتا رہا ہے جن کی وجہ سے یہ وید کی عزت ہمیشہ اس کو دی جاتی ہے کیا پر میشر جانتا ہے یا نہیں کہ دوسرے ملک بھی اس بات کے محتاج ہیں کہ کبھی ان کی زبان میں بھی کلام الہی نازل ہو اور ان میں بھی وحی الہی پانے والے پیدا ہوں اور اگر جانتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ ہمیشہ وید آریہ ورت میں ہی آتا ہے اور سنسکرت زبان میں ہی ہوتا ہے بیان تو کرنا چاہیے کہ یہ پکش پات کیوں ہے اور دوسرے (۱۳) ملکوں کا کیا گناہ ہے جن کی قسمت میں یہ نعمت نہیں اور ہمیشہ کے لئے وہ اس فخر سے بے نصیب