نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 566

نسیمِ دعوت — Page 427

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۲۵ نسیم دعوت بطور چھلکے کے ہیں اور وہ مغز ہے اور سب صفات اُسی کی طرف رجوع کرتی ہیں اس لئے اسی کا نام آگ رکھنا چاہیے اور اسی کا نام پانی اور اس کا نام ہوا کیونکہ ان کے فعل ان کے فعل نہیں بلکہ یہ سب اس کے فعل ہیں اور ان کی طاقتیں ان کی طاقتیں نہیں بلکہ یہ سب اس کی طاقتیں ہیں جیسا کہ سورۃ فاتحہ کی اس آیت میں کہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ اسی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی مختلف رنگوں اور پیرایوں اور عالموں میں جو دنیا کا نظام قائم رکھنے کے لئے (۵۹) زمین آسمان کی چیزیں کام کر رہی ہیں یہ وہ نہیں کام کرتیں بلکہ خدائی طاقت ان کے نیچے کام کر رہی ہے جیسا کہ دوسری آیت میں بھی فرمایا صرح مُمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ یعنی دنیا ایک شیش محل ہے جس کے شیشوں کے نیچے زور سے پانی چل رہا ہے اور نادان سمجھتا ہے کہ یہی شیشے پانی ہیں حالانکہ پانی ان کے نیچے ہے اور جیسا کہ قرآن شریف میں ایک بقیه حاشیه : کیا وہ پیدا کرنے میں کسی مادہ کا محتاج تھا۔ جب میں ان بڑے بڑے اجرام کو دیکھتا ہوں اور ان کی عظمت اور عجائبات پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ صرف ارادہ الہی سے اور اس کے اشارہ سے ہی سب کچھ ہو گیا تو میری رُوح بے اختیار بول اُٹھتی ہے کہ اے ہمارے قادر خدا تو کیا ہی بزرگ قدرتوں والا ہے تیرے کام کیسے عجیب اور وراء العقل ہیں۔ نادان ہے وہ جو تیری قدرتوں سے انکار کرے اور احمق ہے وہ جو تیری نسبت یہ اعتراض پیش کرے کہ اس نے ان چیزوں کو کس ماڈہ سے بنایا۔ افسوس کہ آریہ صاحبان یہ نہیں خیال کرتے کہ اگر خدا کو مخلوق کے بنانے میں انسانی اسباب کی پابندی ضروری ہے تو پھر وہ جیسے بغیر مادہ کے کچھ بنا نہیں سکتا ویسا ہی وہ بغیر کسی کافی وقت کے کچھ بنا نہیں سکتا۔ پس اس صورت میں جیسا کہ ہم ایک دیوار کے بنانے میں اندازہ کرتے ہیں کہ ایک معمار اتنے دنوں میں اس کو تیار کر سکتا ہے۔ اس سے پہلے نہیں۔ ایسا ہی ہمیں یہ اندازہ کرنا پڑے گا کہ خدا کو مثلاً سورج یا چاند بنانے میں اس قدر وقت کی ضرور حاجت پڑی ہوگی اور اس سے پہلے اس کے لئے غیر ممکن ہوگا کہ کچھ بنا سکے مگر ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے لئے یہ حدیں مقرر کرنا اور کسی خاص انداز ہ وقت کی طرف کسی کام کے لئے اس کو محتاج سمجھنا کفر ہے اور گو وہ اپنی مرضی سے کوئی کام جلدی سے کرے یا دیر سے مگر وہ وقت کا محتاج نہیں۔ پس اس صورت میں النمل : ۴۵