نسیمِ دعوت — Page 426
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۲۴ نسیم دعوت اپنی مختلف خاصیتوں کے جوان میں پائی جاتی ہیں خدا کے نام ہیں اور خدا کی صفات ہیں اور خدا کی طاقت ہے جو ان کے اندر پوشیدہ طور پر جلوہ گر ہے اور یہ سب ابتدا میں اسی کے کلمے تھے جو اس کی قدرت نے ان کو مختلف رنگوں میں ظاہر کر دیا ۔ نادان سوال کرے گا کہ خدا کے کلمے کیونکر مجسم ہوئے کیا خدا ان کے علیحدہ ہونے سے کم ہو گیا مگر اس کو سوچنا چاہیے کہ آفتاب سے جو ایک آتشی شیشی کو آگ حاصل کرتی ہے وہ آگ کچھ آفتاب میں سے کم نہیں کرتی ۔ ایسا ہی جو کچھ چاند کی تاثیر سے پھلوں میں فربہی آتی ہے وہ چاند کو بلا نہیں کر دیتی ۔ یہی خدا کی معرفت کا ایک بھید (۵۸) اور تمام نظام روحانی کا مرکز ہے کہ خدا کے کلمات سے ہی دنیا کی پیدائش ہے جبکہ یہ بات طے ہو چکی اور خود قرآن شریف نے یہ علم ہمیں عطا کیا تو پھر میرے نزدیک ممکن ہے کہ وید نے جو کچھ آگ کی تعریف کی یا ہوا کی تعریف کی یا سورج کی مہما اور استت کی اس کا بھی یہی مقصد ہوگا کہ الہی طاقت ایسے شدید تعلق سے ان کے اندر کام کر رہی ہے کہ در حقیقت اس کے مقابل وہ سب اجرام حاشیه آریہ صاحبان کا یہ عقیدہ ہے کہ پر میشر نے زمین اور آسمان کی کسی چیز کو پیدا نہیں کیا صرف موجودہ چیزوں کو جو قدیم سے تھیں باہم جوڑا ہے جیسا کہ جیو جو قدیم سے اور ا نا دی ہے اور پر مانو یا پر کرتی جو اجسام کے چھوٹے چھوٹے حصے ہیں اور قدیم اور انا دی ہیں مگر ہم ایسے اعتقاد کی وجہ سے اس قدر آریہ صاحبوں پر غصہ نہیں کرتے جس قدر ہمیں ان کی بے نصیبی پر رحم آتا ہے کیونکہ جبکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی قدرت ایجاد کو شناخت نہیں کیا تو کیا شناخت کیا اور کونسا سچا اور کامل گیان اُن کو حاصل ہوا۔ وہ خدا جس نے اس قدر بڑے بڑے اجرام آسمان میں پیدا کئے جیسے سورج اور چاند اور اس قدر ستارے پیدا کئے جن کا اب تک انسانوں کو پتہ نہیں لگا۔ کوئی محبت بغیر مشاہدہ حسن یا احسان کے پیدا نہیں ہو سکتی اور کوئی گناہ بغیر خدا کی محبت اور اندیشہ اُس کی ناراضگی کے دُور نہیں ہو سکتا۔ محبت گناہ کو ایسا جلاتی ہے جیسا کہ آگ میل کو ۔ جس سونے کو ہر روز آگ میں ڈالو گے کیا اُس پر کوئی میل رہ سکتی ہے انگر وہ شخص جو نہ خدا کے حسن کا قائل ہے یعنی اُس کو پورا قادر نہیں جانتا اور نہ خدا کے احسان کا قائل ہے یعنی یہ یقین نہیں رکھتا جو اس کی رُوح جو اس کے اندر بول رہی ہے وہ خدا سے ہے۔ وہ خاک اپنے پر میشر سے محبت کرے گا۔ منہ