نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 566

نسیمِ دعوت — Page 428

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۲۶ نیم دعوت تیسری جگہ بھی فرمایا ۔ وَحَمَلْنُهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ یعنی یہ خیال مت کرو کہ زمین تمہیں اُٹھاتی ہے یا کشتیاں دریا میں تمہیں اُٹھاتی ہیں بلکہ ہم خود تمہیں اٹھارہے ہیں۔ خلاصه مطلب یہ کہ ہم ان معنوں کو جو او پر بیان ہوئے وید کی نسبت قبول کر سکتے ہیں اور (۲۰) ہم خیال کر سکتے ہیں کہ جیسا کہ قرآن شریف نے ہمیں ہدایت دی ہے۔ وید کا بھی یہی مدعا ہے مگر دو باتوں کا ثابت ہونا ضروری ہے (۱) اول یہ کہ وید کا بھی یہی مذہب ہو جو قرآن نے ظاہر کیا ہے کہ یہ سب چیزیں کیا آسمان کے اجرام اور کیا زمین کے عناصر اور کیا ذرہ ذرہ مخلوقات خدا کے ہاتھ سے نکلے ہیں کیونکہ اگر ایسا تسلیم نہ کریں تو پھر ان چیزوں کی صفات پر میشر کی صفات نہیں ہو سکتیں اور ان چیزوں کے گن پرمیشر کے گن نہیں کہلا سکتے ۔ اور ان چیزوں کی (۵۹) بقیه حاشیه : وہ مادہ کا کیونکر محتاج ہو گیا۔ انسانی ضعف کے لئے جو منطق بنائی گئی ہے اس منطق سے اس کے حق میں بھی کوئی نتیجہ نکالنا اس سے زیادہ کونسی حماقت ہوگی ۔ میں ہرگز یقین نہیں رکھتا کہ وید کی یہ تعلیم ہو بلکہ خاص پنڈت دیا نند کے پیٹ سے یہ تعلیم نکلی ہے۔ پنڈت صاحب نے جب دیکھا کہ بغیر روٹی کھانے کے وہ چی نہیں سکتے اور بغیر پانی کے ان کی پیاس نہیں بجھتی اور بغیر مشقت اور مغز خوری کے وید نہ پڑھ سکے تو انہوں نے سمجھ لیا کہ جیسا وہ ایک چیز کے حصول کے لئے مادہ کے محتاج ہیں ایسا ہی ان کا پر میشر بھی مادہ کامحتاج ہے۔ انسان کا قاعدہ ہے کہ وہ دوسرے کے کاموں کو اپنے نفس پر قیاس کر لیتا ہے چنانچہ بازاری عورتیں ہرگز سمجھ نہیں سکتیں کہ دنیا میں پاکدامن اور پاک دل عورتیں بھی ہوتی ہیں جس کو آنکھیں ملی ہیں وہ آنکھوں کے بعد اپنے تئیں اندھا نہیں کر سکتا اور جس کو کوئی حصہ گیان اور معرفت کا ملا ہے وہ پھر جہالت کو پسند نہیں کر سکتا۔ ہم نے صد با امورا اپنی آنکھوں سے ایسے خارق عادت دیکھے ہیں کہ اگر ہم بعد اس کے گواہی نہ دیں کہ در حقیقت ہمارا خدا قادر مطلق ہے اور کسی مادہ کا محتاج نہیں تو ہم سخت گنہگار ہوں گے۔ شائد چودہ سال کے قریب ہو گیا ہے یا کم زیادہ جو میں نے دیکھا تھا کہ عالم کشف (۲۰) میں ایک کاغذ پر میں نے بعض باتیں لکھی ہیں اس غرض سے کہ ایسے طور سے وہ ہونی چاہئیں اور میں نے دیکھا کہ میں نے وہ تحریر اپنے قادر خدا کے روبرو پیش کی کہ اس پر دستخط کر دیں کہ ایسا ہی ہو جائے تب میرے خدا نے ایک قلم سے ایک سُرخی کی سیاہی سے جو خون کی مانند تھی اور میں خیال کرتا تھا کہ وہ خون ہی ہے۔ اس پر دستخط اپنے کر دئیے اور دستخط سے پہلے قلم کو چھڑک دیا اور وہ چھینٹے خون کے میرے پر پڑے۔ بنی اسرائیل: اے