نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 566

نسیمِ دعوت — Page 425

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۲۳ نسیم دعوت مرضی کے موافق چلتے ہیں اور اس کی خواہشوں کو اپنی خواہشیں بناتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ سورج کے ان چار تغیر کے مقابل خدا تعالیٰ کے بھی چار تغیر پائے جاتے ہے۔ پس اس میں کلام کی جگہ نہیں کہ جو کچھ اجرام فلکی اور عناصر میں جسمانی اور فانی طور پر صفات پائی جاتی ہیں وہ روحانی اور ابدی طور پر خدا تعالیٰ میں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے یہ بھی ہم پر کھول دیا ہے کہ سورج وغیرہ بذات خود کچھ چیز نہیں ہیں یہ اسی کی طاقت زبر دست ہے جو پردہ میں ہر ایک کام کر رہی ہے۔ وہی ہے جو چاند کو پردہ پوش اپنی ذات کا بنا کر اندھیری راتوں کو روشنی بخشتا ہے جیسا کہ وہ تاریک دلوں میں خود داخل ہو کر ان کو منور کر دیتا ہے اور آپ انسان کے اندر بولتا ہے۔ وہی ہے جو اپنی طاقتوں پر سورج کا پردہ ڈال کر دن کو ایک عظیم الشان روشنی کا مظہر بنا دیتا ہے اور مختلف فصلوں میں مختلف اپنے کام ظاہر کرتا ہے۔ اسی کی طاقت آسمان سے برستی ہے جو مینہ کہلاتی ہے اور خشک زمین کو سر سبز کر دیتی ہے اور پیاسوں کو سیراب کر دیتی ہے۔ اسی کی طاقت آگ میں ہو کر جلاتی ہے اور ہوا میں ہو کر دم کو تازہ کرتی اور پھولوں کو شگفتہ کرتی اور بادلوں کو اُٹھاتی اور آواز کو کانوں تک پہنچاتی ہے۔ (۵۷) یہ اسی کی طاقت ہے کہ زمین کی شکل میں مجسم ہو کر نوع انسان اور حیوانات کو اپنی پشت پر اُٹھا رہی ہے مگر کیا یہ چیزیں خدا ہیں؟ نہیں بلکہ مخلوق مگر ان کے اجرام میں خدا کی طاقت ایسے طور سے پیوست ہو رہی ہے کہ جیسے قلم کے ساتھ ہاتھ ملا ہوا ہے اگر چہ ہم کہہ سکتے ہیں سر قلم لکھتی ہے مگر قلم نہیں لکھتی بلکہ ہاتھ لکھتا ہے یا مثلاً ایک لوہے کا ٹکڑا جو آگ میں پڑ کر آگ کی شکل بن گیا ہے ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ جلاتا ہے اور روشنی بھی دیتا ہے مگر دراصل وہ صفات اُس کی نہیں بلکہ آگ کی ہیں۔ اسی طرح تحقیق کی نظر سے یہ بھی سچ ہے کہ جس قدر اجرام فلکی و عناصر ارضی بلکہ ذرہ ذرہ عالم سفلی اور علوی کا مشہود اور محسوس ہے، یہ سب باعتبار