نسیمِ دعوت — Page 416
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۱۴ نسیم دعوت کیا ہے۔ بات یہی ہے کہ اندھوں کو اکاش سے پانی برستا نظر آتا ہے مگر برسانے والی ایک اور طاقت ہے اور اس طور پر برسانا یہ جلوہ دکھلانا ہے کہ یہ بھی اس کی ایک صفت ہے ۔ پس آسمان کی یہ ظاہری ربوبیت اس کی حقیقی ربوبیت کا ایک حل ہے اور جو سامان رعد اور صاعقہ وغیرہ کا بادل میں ہوتا ہے دراصل یہ سب اس کی صفات کے رنگوں میں سے ایک رنگ ہے۔ پھر دوسری ربوبیت خدا تعالیٰ کی جو زمین پر کام کر رہی ہے رحمانیت ہے۔ اس لفظ رحمان سے بت پرستوں کے مقابل پرسورج دیوتا کارڈ ملحوظ ہے کیونکہ بموجب بت پرستوں کے خیال کے جیسا کہ اکاش یعنی آسمان پانی کے ذریعہ سے چیزوں کو پیدا کرتا ہے۔ ایسا ہی سورج بہار کے ایام میں تمام درختوں کو لباس پہناتا ہے۔ گویا یہ اس کی وہ رحمت ہے جو کسی عمل پر مترتب نہیں ۔ پس سورج جسمانی طور پر رحمانیت کا مظہر ہے کیونکہ وہ موسم بہار میں ننگے درختوں کو پتوں کی چادر پہناتا ہے ۴۹ اور اس وقت تک درختوں نے اپنے طور پر کوئی عمل نہیں کیا ہوتا یعنی کچھ بنایا نہیں ہوتا تا بنائے ہوئے پر کچھ زیادہ کیا جائے بلکہ وہ خزاں کی غارت گری کے باعث محض ننگے اور بر ہنہ کھڑے ہوتے ہیں پھر سورج کے پر تو وہ عاطفت سے ہر ایک درخت اپنے تئیں آراستہ کرنا شروع کر دیتا ہے آخر سورج کی مدد سے درختوں کا عمل اس حد تک پہنچتا ہے کہ وہ پھل بنا لیتے ہیں ۔ پس جبکہ وہ پھل بنا کر اپنے عمل کو پورا کر چکتے ہیں تب چاندان پر اپنی رحیمیت کا سایہ ڈالتا ہے اور رحیم اس کو کہتے ہیں کہ عمل کرنے والے کو اس کی تکمیل عمل کے لئے مدد دے تا اس کا عمل نا تمام نہ رہا جاوے۔ پس چاند درختوں کے پھلوں کو یہ مدد دیتا ہے کہ ان کو موٹے کر دیتا ہے اور ان میں اپنی تاثیر سے رطوبت ڈالتا ہے چنانچہ علم طبعی میں یہ مسلم مسئلہ ہے کہ چاند کی روشنی میں باغبان لوگ اناروں کے پھٹنے کی آواز سُنا کرتے ہیں ۔ غرض استعارہ کے طور پر قمر جو خیر دوم ہے رحیم کے نام سے موسوم ہوا کیونکہ بڑا فعل اس کا یہی ہے جو موجو دشدہ پھلوں کی مددکرتا ہے