نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 566

نسیمِ دعوت — Page 415

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۱۳ نسیم دعوت کے لئے آسمان کو گواہ لاتا ہوں جس سے پانی برستا ہے یعنی تمہاری روحانی حالت بھی ایک پانی کی محتاج ہے اور وہ آسمان سے ہی آتا ہے جیسا کہ تمہارا جسمانی پانی آسمان سے آتا ہے اگر وہ پانی نہ ہو تو تمہاری عقلوں کے پانی بھی خشک ہو جائیں۔ عقل بھی اُسی آسمانی پانی یعنی وحی الہی سے تازگی اور روشنی پاتی ہے۔ غرض جس خدمت میں آسمان لگا ہوا ہے یعنی پانی برسانے کی خدمت یہ کام آسمان کا خدا تعالیٰ کی پہلی صفت کا ایک ظل ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ ابتدا ہر ایک چیز کا پانی سے ہے۔ انسان بھی پانی سے ہی پیدا ہوتا ہے اور وید کی رُو سے پانی کا دیوتا اکاش ہے جس کو دید کی اصطلاح میں اندر کہتے ہیں مگر یہ سمجھنا غلطی ہے کہ یہ اندر کچھ چیز ہے بلکہ وہی پوشیدہ اور نہاں در نہاں طاقت عظمیٰ جس کا نام خدا ہے اس میں کام کر رہی ہے اسی کو بیان کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یعنی سورۃ فاتحہ میں یوں فرمایا ہے۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ یعنی مت خیال کرو کہ بجز خدا کے کوئی اور بھی رب ہے جو اپنی ربوبیت سے دنیا کی پرورش کر رہا ہے بلکہ وہی ایک خدا ہے جو تمہارا رب ہے۔ اسی کی طاقت ہر ایک جگہ کام کرتی ہے۔ اس جگہ اس ترتیب کے لحاظ سے جو اس سورۃ میں ہے اندر دیوتا کارڈ ملحوظ ہے کیونکہ پہلی تربیت اسی سے شروع ہوتی ہے۔ اسی کو دوسرے لفظوں میں آسمان یا اکاش کہتے ہیں۔ اسی وجہ سے دنیا کے لوگ تمام قضاء وقدر کو آسمان کی طرف منسوب کیا کرتے ہیں اور بت پرستوں کے نزدیک بڑا رب النوع وہی ہے جو اندر کہلاتا ہے۔ پس اس جگہ اسی کا رڈ منظور ہے اور یہ جتلانا مقصود ہے کہ حقیقی اندر وہی اکیلا خدا ہے۔ اسی کی طاقت ہے جو پانی برساتی ہے۔ آسمان کو رب العالمین کہنا حماقت ہے بلکہ ربّ العالمین وہی ہے جس کا نام اللہ ہے۔ غرض خدا تعالیٰ کی یہ پہلی ربوبیت ہے جس کو نادانوں نے اکاش یعنی اندر کی طرف منسوب الفاتحة : ٢