نسیمِ دعوت — Page 411
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۰۹ نسیم دعوت پیرایہ میں اور ہر ایک فائدہ بخش صنعت الہی کے ذریعہ سے مشہود اور محسوس ہورہی ہے یعنی جن جن متفرق وسیلوں پر اس دنیا کے لوگوں کی بقا اور عافیت اور تکمیل موقوف ہے۔ دراصل ان کے پردہ میں ایک ہی پوشیدہ طاقت کام کر رہی ہے جس کا نام اللہ ہے۔ چنانچہ اس دنیا کے کاروبار کی تکمیل کے لئے ایک قسم کی تربیت سورج کر رہا ہے جو ایک حد تک انسان کے بدن کو گرمی پہنچا کر دوران خون کا سلسلہ جاری رکھتا ہے جس سے انسان مرنے سے بچتا ہے اور اس کی آنکھوں کے نور کی مدد کرتا ہے۔ پس حقیقی سورج جو حقیقی گرمی پہنچانے والا اور حقیقی روشنی عطا کرنے والا ہے وہ خدا ہے کیونکہ اسی کی طاقت کے سہارے سے یہ سورج بھی کام کر رہا ہے اور اس حقیقی سورج کا صرف یہی کام نہیں کہ وہ دورانِ خون کے سلسلہ کو جاری رکھتا ہے جس پر جسمانی زندگی موقوف ہے۔ اس طرح پر کہ اس فعل کا آلہ انسان کے دل کو ٹھہراتا ہے اور آسمانی روشنی سے آنکھوں کے نور کی مدد کرتا ہے بلکہ وہ روحانی زندگی کو نوع انسان کے تمام اعضاء تک پہنچانے کے لئے منجملہ انسانوں کے ایک انسان کو اختیار کر لیتا ہے اور انسانی سلسلہ کے مجموعہ کے لئے جو ایک جسم کا حکم رکھتا ہے اس کو بطور دل کے قرار دے دیتا ہے اور اس کو روحانی زندگی کا خون نوع انسان کے تمام اعضاء تک پہنچانے کے لئے ایک آلہ مقرر کر دیتا ہے ۔ پس وہ طبعا اس خدمت میں لگا رہتا ہے کہ ایک طرف سے لیتا اور پھر تمام مناسب اطراف میں تقسیم کر دیتا ہے اور جیسا کہ غیر حقیقی اور جسمانی سورج آنکھوں کو کامل روشنی پہنچا تا اور تمام نیک بد چیزیں ان پر کھول دیتا ہے۔ ایسا ہی یہ حقیقی سورج دل کی آنکھ کو معرفت کے بلند مینار تک پہنچا کر دن چڑھا دیتا ہے اور جیسا کہ وہ جسمانی سورج حقیقی سورج کے سہارے سے پھلوں کو پکاتا ہے اور ان میں شیرینی اور حلاوت ڈالتا اور عفونتوں کو دور کرتا اور بہار کے موسم میں تمام درختوں کو ایک سبز چادر پہناتا اور خوشگوار پھلوں کی دولت سے ان کے دامن کو پُر کرتا اور پھر خریف