نسیمِ دعوت — Page 412
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۱۰ نسیم دعوت میں اس کے بر خلاف اثر ظاہر کرتا ہے اور تمام درختوں کے پتے گرادیتا اور بدشکل بنا دیتا اور (۴۵) پھلوں سے محروم کرتا اور بالکل انہیں نگے کر دیتا ہے بجز ان ہمیشہ بہار درختوں کے جن پر وہ ایسا اثر نہیں ڈالتا یہی کام اس حقیقی آفتاب کے ہیں جو سر چشمہ تمام روشنیوں اور فیضوں کا ہے وہ اپنی مختلف تجلیات سے مختلف طور کے اثر دکھاتا ہے ایک قسم کی تجلی سے وہ بہار پیدا کر دیتا ہے اور پھر دوسری قسم کی تجلی سے وہ خزاں لاتا ہے اور ایک تجلی سے وہ عارفوں کے لئے معرفت کی حلاوتیں پیدا کرتا ہے اور پھر ایک تجلی سے کفر اور فسق کا عفونت ناک مادہ دنیا سے ڈور اور دفع کر دیتا ہے۔ پس اگر غور سے دیکھا جائے تو وہ تمام کام جو یہ جسمانی آفتاب کر رہا ہے وہ سب کام اس حقیقی آفتاب کے ظل ہیں اور یہ نہیں کہ وہ صرف روحانی کام کرتا ہے بلکہ جس قد راس جسمانی سورج کے کام ہیں وہ اس کے اپنے کام نہیں ہیں بلکہ درحقیقت اسی معبود حقیقی کی پوشیدہ طاقت اس کے اندر وہ تمام کام کر رہی ہے جیسا کہ اُسی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے قرآن شریف میں ایک ملکہ کا قصہ لکھا ہے جو آفتاب پرست تھی اور اس کا نام بلقیس تھا اور وہ اپنے ملک کی بادشاہ تھی اور ایسا ہوا کہ اس وقت کے نبی نے اس کو دھمکی دے بھیجی کہ تجھے ہمارے پاس حاضر ہونا چاہئے ورنہ ہمارا لشکر تیرے پر چڑھائی کرے گا اور پھر تیری خیر نہیں ہوگی ۔ پس وہ ڈر گئی اور اس نبی کے پاس حاضر ہونے کے لئے اپنے شہر سے روانہ ہوئی اور قبل اس کے کہ وہ حاضر ہو اس کو متنبہ کرنے کے لئے ایک ایسا محل طیار کیا گیا جس پر نہایت مصفا شیشہ کا فرش تھا اور اس فرش کے نیچے نہر کی طرح ایک وسیع خندق طیار کی گئی تھی جس میں پانی بہتا تھا اور پانی میں مچھلیاں چلتی تھیں جب وہ ملکہ اس جگہ پہنچی تو اس کو حکم دیا گیا کر محل کے اندر آ جانب اس نے نزدیک جا کر دیکھا کہ پانی زور سے بہہ رہا ہے اور اس میں مچھلیاں ہیں ۔ اس نظارہ سے اس پر یہ اثر ہوا کہ اُس نے اپنی پنڈلیوں پر سے کپڑا اٹھا لیا کہ ایسا نہ ہو کہ پانی میں تر ہو جائے ۔ تب اُس نبی نے اس ملکہ کو جس کا نام بلقیس تھا آواز دی کہ