نسیمِ دعوت — Page 407
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۰۵ نسیم دعوت اس میں دکھائی دیتی ہے اور کروڑ ہا لوگوں پر اس کا یہ بداثر پایا جاتا ہے کہ وہ آتش پرستی وغیرہ مشرکانہ طریقوں میں سرگرم ہیں بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ جو ستارہ پرستی اور آتش پرستی پارسیوں میں موجود ہے وہ بھی دید سے ہی انہیں پہنچی ہے اور تعجب نہیں کہ رومیوں اور یونانیوں میں بھی یہ مشرکانہ علیمیں وید کے ذریعہ سے ہی رواج پائی ہوں کیونکہ آریہ قوم کا خیال ہے کہ دید قدیم ہے لہذا ہر ایک جھوٹی اور مشرکانہ تعلیم کا سر چشمہ ایسی کتاب کو ہی ماننا پڑے گا جو سب سے پرانی کہلاتی ہے پس وہ نمونہ جو وید کی تعلیم نے دکھلایا ہے وہ ان کروڑ ہا لوگوں کے عقیدوں سے ظاہر ہے جو دید کی پابندی کا دعویٰ رکھتے ہیں ۔ اور موجودہ حالت میں وید میں کوئی نور توحید نظر نہیں آتا ۔ ہر ایک صفحہ پر مشر کا نہ تعلیم کے الفاظ نظر آتے ہیں اور بے اختیار دل میں گزرتا ہے کہ یہ چار کا عدد ہی شرک سے کچھ مناسبت رکھتا ہے۔ انجیلیں چار تھیں۔ انہوں نے ایک مصنوعی خدا پیش کیا اور پھر وید بھی چار ہیں۔ انہوں نے آگ وغیرہ کی پرستش سکھلائی لیکن تاہم ممکن اور قرین قیاس ہے کہ یہ کتاب تحریف کی گئی ہو اور کسی زمانہ میں صحیح ہو اور خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو اور پھر نادانوں کے تصرف اور تحریف سے بگڑ گئی ہو اور وہ شرتیاں اس میں سے نکال دی گئی ہوں جن میں یہ ذکر تھا کہ تم سورج اور چاند اور ہوا اور آگ اور پانی اور اکاش اور خاک وغیرہ کی پرستش مت کرو۔ اگر چہ اس قدر تغیر اور انقلاب سے یہ کتاب خطرناک اور مضر ہوگئی تا ہم کسی زمانہ میں بریکار نہ تھی ۔ اور جس شخص کو ہندوؤں کی تاریخ سے واقفیت ہے وہ خوب جانتا ہے کہ وید پر بڑے بڑے تغیرات (۲) آئے ہیں اور ایک زمانہ میں ویدوں کو مخالفوں نے آگ میں جلا دیا تھا اور مدت تک وہ ایسے لوگوں کے قبضہ میں رہے جو عناصر پرستی اور مورتی پوجا کے دلدادہ تھے اور بجز اس قسم کے برہمنوں کے دوسروں پر ان کا پڑھنا حرام کیا گیا تھا۔ پس اس وجہ سے وید کے پستک عام طور پر مل نہیں سکتے تھے بلکہ صرف بڑے بڑے برہمنوں کے کتب خانوں میں ہی پائے جاتے