نسیمِ دعوت — Page 406
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۰۴ نسیم دعوت کے وہ حصے جن میں صریح گواہی دی گئی ہے کہ یسوع ابن مریم انسان تھا وہ ان پر بہت ناگوار گذررہے ہیں اگر ان کے مشورہ سے انجیلیں لکھی جاتیں تو بہت سے مقامات انجیل کے نکال دینے کے لائق تھے اور حتی المقدور اب بھی یہ کارروائی مختلف ترجموں کے ذریعہ سے کی جاتی ہے۔ اسی طرح اس تقریر کے لحاظ سے جو ہم ذیل میں لکھتے ہیں جس کو ہم نے نہ اپنی طرف سے بلکہ قرآن شریف کے استنباط سے لکھا ہے ممکن معلوم ہوتا ہے کہ وید بھی کسی زمانہ میں خدا کی وحی ہو۔ اور خدا کی طرف سے یہ کتاب ہو اور پھر ایک مدت کے بعد اس کے اصلی معنوں کے سمجھنے میں لوگوں نے غلطی کھائی اور اس وجہ سے آریہ ورت میں آریہ قوم میں یہ فرقے پیدا ہو گئے کہ کوئی سورج کی پوجا کرتا ہے اور کوئی آگ کا پوجاری اور کوئی گنگا سے مرادیں مانگتا ہے اور جب ان فرقوں نے دیکھا کہ وید کی صد ہا دوسری شرتیاں مخلوق پرستی کے مخالف ہیں تب انہوں نے رفتہ رفتہ ان تمام شرتیوں کو دید میں سے باہر نکال دیا اور صرف وہی شرتیاں وید میں رہنے دیں جو مشر کا نہ تعلیم کے رنگ میں تھیں۔ اگر یہ امر ثابت ہو جائے کہ درحقیقت ایسی صدہا شرتیاں وید میں سے نکال دی گئی ہیں تو کم سے کم ایک خدا ترس کو تقوی کے لحاظ سے وید کے (۴۰) بارے میں جلدی سے تکذیب کرنا منع ہوگا اور وید کی تکذیب کے لئے صرف اس قدر کافی نہیں ہوگا کہ اس میں آگ وغیرہ کی پرستش و استت و مہما موجود ہے کیونکہ قرآن شریف کی بعض آیات جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے وید کے اس طرز کو توحید میں داخل کرتی ہیں اور گو عناصر پرستی کے متعلق بعض شرتیاں وید میں اس قسم کی ہیں کہ ان کی تاویل کرنا بہت مشکل ہے مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ اس طور پر جو قرآن شریف میں اشارات مذکور ہیں بعض شرتیوں کی تاویل بھی ہو سکتی ہے ۔ چنانچہ ہم اس قاعدہ کو ذیل میں لکھیں گے ۔ اور اس کے ساتھ ہم یہ بھی اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہیں کہ گو دید اپنی موجودہ حالت میں ایک دھوکا دینے والی کتاب ہے جو شرک کی تعلیم جا بجا