نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 566

نسیمِ دعوت — Page 405

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۰۳ نسیم دعوت دوسرے بھاشی کاروں نے قبول کیا ہے کہ ضرور اس میں مشر کا نہ تعلیم ہے تو دو مختلف رائیوں کے ساتھ فیصلہ کیونکر ہو اور ایسے بے اصل خیالات سے گووہ قدیم ہوں یا جدید قطعی طور پر ہرگز یہ رائے قائم نہیں ہو سکتی کہ وید اس داغ سے مبرا ہے کیونکہ ہم دوسرے بھاشی کاروں کی شہادت کو کہاں چھپائیں اور جس طور کے معنی کروڑ ہا لوگ ابتدا سے سمجھتے چلے آئے ہیں ان معنوں سے بلاوجہ کیونکر اعراض کیا جائے۔ یہ وید کا خود اپنا فرض تھا کہ جس حالت میں اس نے ایسے الفاظ استعمال کئے جن سے قوم شرک کی نجاست سے آلودہ ہو گئی تو وہ دھو کہ دور کرنے کے لئے آپ ہی پچاس یا سا ٹھ یا نو مرتبہ تاکید کے طور پر بار بار لکھ دیتا کہ تم نے سورج چاند آگ پانی وغیرہ کی پرستش ہرگز نہ کرنا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ ایک اور امر ہے جو قرآن شریف کی تعلیم سے ہمیں معلوم ہوا ہے اور ہم تکمیل بحث کے لئے اس کا ذکر بھی اس جگہ مناسب سمجھتے ہیں اور ہمیں خیال گذرتا ہے کہ شاید رگ وید کی شرتیوں کا بھی یہی منشاء ہو اور پھر ایک زمانہ کے گزرنے کے بعد وہ منشاء سطحی نظروں سے چھپ گیا اور ساتھ ہی اس کے یہ بھی ممکن ہے کہ ابتدا زمانہ میں ایسی شرتیاں وید میں بہت ہوں جن کا مضمون ( ۳۹ ) یہ ہو کہ آگ اور پانی اور ہوا اور سورج اور چاند وغیرہ کی پرستش نہیں کرنی چاہیے پھر بعد میں جبکہ آریہ ورت میں ایسے فرقے بہت پیدا ہو گئے جو وید کے ظاہری الفاظ کو دیکھ کر عناصر پرست اور آفتاب پرست و غیرہ بن گئے تو رفتہ رفتہ انہوں نے وہ شرتیاں وید میں سے نکال دیں کیونکہ طبعاً انسان میں یہ عادت ہے کہ جب وہ اپنی عقل اور فہم کی حد تک دو مخالف مضمون کو ایک کتاب میں دیکھتا ہے تو کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح ان دونوں کو مطابق کرے اور جب مطابق نہیں کر سکتا تو پھر اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ کسی طرح اس حصہ کو نکال دے کہ جو اس کے مسلّم حصہ کے مخالف ہے جیسا کہ عیسائی صاحبان بھی دن رات یہی کوشش کر رہے ہیں اور انجیل حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” نے “ زائد ہے۔(ناشر)