نسیمِ دعوت — Page 404
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۰۲ نسیم دعوت ترجمے جو اردو اور انگریزی میں ہو چکے ہیں اس صورت میں کوئی قبول کر سکتا ہے کہ اس رائے کے ظاہر کرنے میں کہ ویدوں میں مخلوق پرستی ہے ان تمام لوگوں کی عقل ماری گئی اور صرف پنڈت دیانند صاحب اس دھو کہ سے بچ گئے ۔ ہاں میرے خیال میں ایک بات آتی ہے اگر اس امر کو آریہ سماجی لوگ ثابت کر سکیں تو پھر پنڈت دیانند کی تاویل صحیح ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ جس قدر شد ومد سے ویدوں میں مخلوق پرستی کی تعلیم ہے جیسا کہ ابھی ہم نے چند شر تیاں نمونہ کے طور پر لکھی ہیں اس کے مقابلہ پر ویدوں میں سے بکثرت ایسی صاف صاف شرتیاں پیش کر دی جائیں جن میں یہ بیان ہو کہ تم نہ تو آگ کی پرستش کرو اور نہ ہوا کی اور نہ پانی کی اور نہ سورج کی اور نہ چاند کی اور نہ کسی اور چیز کی بلکہ محض پر میشر کی ہی پرستش کرومگر چاہئے کہ ایسی شرتیاں کم سے کم پچاس یا ساٹھ ہوں کیونکہ جس حالت میں عناصر پرستی اور شمس و قمر کی پوجا کے بارے میں صد ہاشرتیاں وید میں پائی جاتی ہیں تو ان کے رد میں صرف دو چار شرتیاں کافی نہیں ہوسکتیں کیونکہ وہم گزرتا ہے کہ کسی نے وید کی پردہ پوشی کے لئے پیچھے سے ملا دی ہوں گی۔ اسی فیصلہ کے لئے میں نے یہ گذارش کی ہے۔ اگر ایسی شرتیاں جو مخلوق پرستی کے وہم کو رد کرتی ہوں بہت ہی تھوڑی ہوں تب بھی کم سے کم پچاس یا ساٹھ ہونی چاہئیں تا کسی وہم کی گنجائش نہ رہے اور اگر مشر کا نہ تعلیم کی کثرت کے مقابل ایسی شرتیوں کی کثرت ثابت نہ ہو تو اگر ایک پنڈت دیا نند نہیں کروڑ ہا پنڈت دیا نند ہوں ہرگز ان مشرکانہ شرتیوں کی تاویل میں ایمانداری سے جواب نہیں دے سکے گا۔ ظاہر ہے کہ وید کی ان تعلیموں سے کروڑ ہا مخلوقات گمراہ ہو چکی ہے اور بیسیوں مخلوق پرستی کے مذہب آریہ قوم میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ پس اگر فرض کے طور پر پنڈت دیانند کی طرح کسی اور وید کے بھاشی کار نے بھی ان شرتیوں کی وہی تاویل کی ہو جو د یا نند نے کی ہے تو وہ بھی ہرگز پذیرائی کے لائق نہیں ہوگی کیونکہ ایسی تاویل کرنے والے کو وحی اور الہام کا دعویٰ نہیں ممکن ہے کہ کسی شخص نے جس کو مشر کا نہ تعلیم بُری معلوم ہوئی ہو ۔ وید کی ان شرتیوں پر اپنی تاویل سے پردہ ڈال دیا ہو تو جبکہ اس کے مقابل