نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 403 of 566

نسیمِ دعوت — Page 403

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۰۱ نسیم دعوت انصاف کی یہ بات ہے کہ پنڈت دیانند وید کی تاویل نہیں کرتا تھا بلکہ ایک دوسرا دید بنانا چاہتا تھا۔ آخر تاویل کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ خدا کے آسمانی بندوں میں سے تو نہیں تھا جو خدا سے الہام پاتے ہیں اور نہ اس کو خدا کا مکالمہ نصیب تھا اور نہ اس کی تائید میں کوئی آسمانی نشان ظاہر ہوئے بلکہ وہ بلا امتیاز صد ہا ہندو پنڈتوں میں سے ایک پنڈت تھا پھر خواہ نخواہ بے دلیل اس کی بات کو ماننا انصاف سے بعید ہے جبکہ ہزار ہا پنڈت ایک طرف ہیں اور ایک طرف صرف وہ اور خدا کی طرف سے کوئی امتیازی نشان اس کے ساتھ نہیں اور بجز تاویلوں کے اور کوئی کام اس نے نہیں کیا تو کیوں بغیر تحقیق کے خواہ نخواہ اس کی بات مان لی جائے۔ یہ صرف مسلمانوں کا الزام نہیں کہ ویدوں میں مخلوق پرستی کی تعلیم ہے بلکہ سناتن دھرم والے قدیم ہندو جن کے مذہب کے کروڑ ہا لوگ اس ملک میں پائے جاتے ہیں وہ بھی اس بات کے ہمیشہ قائل چلے آتے ہیں کہ وید میں مخلوق پرستی کی تعلیم ہے۔ میں ہر گز سمجھ نہیں سکتا کہ اگر ۳۷) وید میں مخلوق پرستی کی تعلیم نہ ہوتی تو پھر کیوں یہ ہزار ہا پنڈت یک دفعہ اندھے ہو جاتے اور خلاف واقعہ وید پر تہمتیں لگاتے۔ عناصر پرستی کی شرتیاں صرف ایک دو نہیں بلکہ تمام رگ وید ان سے بھرا پڑا ہے۔ اب کہاں تک انسان تاویل کرتا جاوے۔ اگر دوشر تیاں ہوتیں یا دین ہوتیں یا بین ہو تیں یا پچاس ہوتیں تو کوئی شخص تکلف سے محنت اُٹھا کرتا ویل بھی کرتا مگر وید میں تو صد ہاشرتیاں اسی قسم کی پائی جاتی ہیں ان کی کہاں تک تاویل ہو سکے ۔ تعصب امرا لگ ہے اور گرفتار تعصب جو چاہے کہے لیکن انصاف کے ساتھ اگر سوچا جائے تو کوئی صورت تاویل کی معلوم نہیں ہوتی۔ ۵۰ آریہ سماجیوں کے دل میں خواہ نخواہ یہ وہم پیدا ہو گیا ہے کہ جو کچھ پنڈت دیا نند نے سمجھا ہے وہ دوسرے ہزار ہا پنڈتوں نے نہیں سمجھا لیکن یہ خیال بالکل بیہودہ ہے۔ وید سامنے موجود ہے اور وہ تین فرقوں کے ہاتھ میں ہے۔ ایک سناتن دھرم والے دوسرے برہم سماج والے۔ تیسرے وید کے