نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 566

نسیمِ دعوت — Page 402

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۰۰ نسیم دعوت تمہارا ہی آسرا ہے ( غور کرنے کا مقام ہے کہ ایک طرف اس شرقی میں اقرار ہے کہ سورج اور چاند دونوں مخلوق اور پیدا شدہ ہیں اور پھر ان سے مراد یں بھی مانگی گئی ہیں ) سورج کے نکلنے پر ستارے اور رات چوروں کی طرح بھاگ جاتے ہیں۔ ہم سورج کے پاس جاتے ہیں جود یوتا ؤں کے بیچ نہایت عمدہ دیوتا ہے۔ اے چاند ہمیں تہمت سے بچا گناہ سے محفوظ رکھ ۔ ہمارے تو کل سے خوش ہو کر ہمارا دوست ہو جا ایسا ہو کہ تیری قوت زیادہ ہو۔ اے چاند تو دولت کو بخشنے والا ہے اور مشکلوں سے نجات دینے والا ہمارے مکان پر دلیر بہادروں کے ہمراہ آ۔ اے چاند اور اگنی تم مرتبہ میں برابر ہو ہماری تعریفوں کو آپس میں بانٹ لو کہ تم ہمیشہ دیوتاؤں کے سردار رہے ہو۔ میں جل دیوتا کو جس میں ہمارے مویشی پانی پیتے ہیں بلاتا ہوں ۔ اے دھرتی دیوتا ایسا ہو کہ تو بہت وسیع ہو جائے تجھ پر کانٹے نہ رہیں اور تو ہمارے رہنے کی جگہ ہو جائے اور ہمیں بڑی خوشی دے۔ یہ چند شرتیاں ہیں جو ہم نے رگ وید سے بطور نمونہ کے لکھی ہیں جس کا جی چاہے اصل سنسکرت پستک سے مقابلہ کر لے۔ اس قسم کی شرتیاں جو صد با دید میں پائی جاتی ہیں سناتن دھرم والے ہزار ہا پنڈت جو آریہ ورت میں موجود ہیں ان کے یہی معنے کرتے ہیں کہ ان سے عناصر پرستی ثابت ہوتی ہے اسی وجہ سے آریہ قوم میں آگ کی پوجا کرنے والے اور ایسا ہی پانی کی پوجا کرنے والے اور سورج چاند کے پوجاری بھی پائے جاتے ہیں اور ان معنوں پر صرف انہی کی گواہی نہیں بلکہ برہمو مذ ہب کے صدہا محقق بھی جنہوں نے بڑی محنت سے سنسکرت میں چاروں وید پڑھے تھے آج تک گواہی دیتے آئے ہیں۔ اب غور کا مقام ہے کہ ان سب کے مقابل پر صرف ایک پنڈت دیا نند جس کو کوئی وحی الہام نہیں ہوتا تھا دعویٰ کرتا ہے کہ یہ سب پر میشر کے نام ہیں اور پھر وہ اس دعوی کو بھی اخیر تک نباہ نہیں سکا بلکہ بعض مقام میں جہاں کسی طرح اس کی تاویل پیش نہیں گئی آپ قبول کر لیا ہے کہ اس جگہ آگ سے آگ ہی مراد ہے یا جل سے جل ہی مراد ہے اصل