نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 566

نسیمِ دعوت — Page 400

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۹۸ نسیم دعوت محبت کی اور اس کی راہ میں فدا ہوئے اور اس کو ہمیشہ کے لئے اختیار کیا وہ ان کو بھی مکتی خانہ سے نکال کر اسی وقت یا کچھ دن بعد بندر اور سور بنا دیتا ہے ایسے پر میشر سے کونسی نیکی کی امید ہو سکتی ہے چاہئے کہ آریہ صاحبان اس مضمون کو غور سے مطالعہ کریں اور محض جوش اور غضب سے جواب نہ دیں بلکہ اول بات کو سمجھ لیں پھر کوئی کلمہ منہ پر لاویں۔ آریہ سماجیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ وید میں عناصر پرستی اور ستارہ پرستی کی تعلیم نہیں ہے اور اس میں محض خدائے واحد لاشریک کی پرستش کی تعلیم ہے لیکن ان کے مقابل پر قدیم مذہب سناتن دھرم کا ہے جو تمام آریہ ورت میں پھیلا ہوا ہے جس کے کروڑ ہا باشندے اس ملک میں موجود ہیں اور صدہا پنڈت جابجا پائے جاتے ہیں ان کا یہ بیان ہے کہ ضرور عناصر پرستی کی تعلیمیں وید میں پائی جاتی ہیں اور بلاشبہ وید یہی ہدایت کرتا ہے کہ تم آگ کی پرستش کر و ہوا کی پرستش کرو، پانی کی پرستش کرو، زمین کی پرستش کرو، سورج کی پرستش کرو، چاند کی پرستش کرو اور اسی وجہ سے آریہ ورت میں قدیم سے ان چیزوں کے پرستار پائے جاتے ہیں چنانچہ گنگا کی پرستش کرنے والے اور کانگڑہ میں جوالا مکھی کی آگ کے پرستش کرنے والے اور سورج کے آگے ہاتھ جوڑنے والے اب تک جابجا ان پرستشوں میں مشغول ہیں اور یہ سب لوگ وید کی پابندی کا دعویٰ کرتے ہیں اور قطع نظر اس کے جب کہ ہم خود بھی ایمان اور انصاف کی رُو سے ان ویدوں میں غور کرتے ہیں جو اُردو اور انگریزی میں ترجمہ ہو کر شائع کئے گئے ہیں تو صد ہاشرتیوں پر نظر ڈال کر ضرور ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ بلاشبہ ان ویدوں میں آگ اور ہوا اور سورج اور چاند وغیرہ سے دعائیں مانگی گئی ہیں اور مرادوں کے پانے کے لئے ان سے مدد طلب کی گئی ہے چنانچہ ہم چند شر تیاں رگ وید کی اس جگہ محض نمونہ کے طور پر لکھتے ہیں اور یہ حصہ دید کا ترجمہ ہو کر سنسکرت پستک سے دوبارہ مقابلہ کیا گیا ہے اور پنڈتوں کی شہادتوں کے ساتھ اس کی صحت کی اطمینان دلائی گئی ہے اور یو نیورسٹی میں پڑھانے کے لئے قبول کیا گیا ہے اور وہ شرتیاں یہ ہیں:۔