نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 399 of 566

نسیمِ دعوت — Page 399

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۹۷ نسیم دعوت ایک اور بات ہے جو ہمیں سمجھ نہیں آتی کیا کوئی شریف آریہ صاحب ہیں جو اس کو سمجھ سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ بموجب اس قاعدہ کے جو مکتی یا بوں کو ایک مدت کے بعد پھر تناسخ کے چکر میں ڈالا جاتا ہے اور طرح طرح کے جونوں کی ذلت ان کو دیکھنی پڑتی ہے لازم آتا ہے کہ آریہ صاحبوں کا کوئی مقدس بزرگ اس ذلت سے باہر نہ ہو گو ہماری یہ رائے نہیں ہے کہ ہم کسی قوم کے بزرگوں کو ذلت کے داغ کی طرف منسوب کریں بلکہ ہماری یہ رائے ہے کہ جس شخص کو خدائے کریم اپنے فضل عظیم سے اپنی معرفت اور محبت اور اپنے پاک تعلق سے حصہ کامل بخشتا ہے اور اپنے عزت والے گروہ میں داخل کرتا ہے پھر اس کو کبھی ذلیل نہیں کرتا اور ممکن نہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے قرب کا اتنا بڑا درجہ پا کر پھر کتا یا بلا یا سوریا بندر بنایا جاوے مگر آریہ صاحبوں کا یہ قاعدہ چاہتا ہے کہ ضرور مقدس لوگ ان جونوں میں آتے ہیں خواہ وہ اوتار کہلاویں بارشی یا منی کے درجہ تک پہنچیں ہم بادب دریافت کرتے ہیں کہ کیا وید کے رشی جن پر چاروں وید نازل ہوئے تھے اور راجہ رام چندر اور راجہ کرشن وغیرہ اوتار اس قاعدہ سے مستقلی (۳۳ ہیں یا نہیں اور اگر مستثنی ہیں تو کیا وجہ اور اگر نہیں تو ان کو عزت سے یاد کرنا کیا معنے رکھتا ہے کیا عقل سلیم اس بات کو چاہتی ہے کہ ایک کتاب کو تو عزت دی جائے اور اس کو آسمانی کتاب سمجھا جائے مگر جس پر وہ کتاب نازل ہوئی تھی اس کی نسبت یہ اعتقاد رکھا جائے کہ وہ رذیل سے رذیل جونوں میں چکر کھاتا پھرتا ہے۔ غرض جو لوگ خدا تعالیٰ کی جناب میں ایک مرتبہ عزت یا گئے پھر ان کو تناسخ کے چکر میں ڈالنا اور کتے ، بلے ، سور بنانا ، یہ اُس قدوس خدا کا فعل نہیں ہے جو پاک بنا کر پھر پلید بنانا نہیں چاہتا اور نہ اس صورت میں آریہ سماجیوں کا کوئی بزرگ بھی یقینی طور پر قابل تعریف نہیں ٹھہرتا کیونکہ کیا معلوم کہ اب وہ کس جون میں ہے۔ غرض اس عقیدہ کے رو سے آریہ صاحبوں کا پر میشر نہ صرف بخیلی کی صفت مذمومہ سے موسوم ہوتا ہے بلکہ سخت دل اور ظالم اور کینہ ور بھی ٹھہرتا ہے کہ جن لوگوں نے اس کے ساتھ سچے دل سے