نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 391 of 566

نسیمِ دعوت — Page 391

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۸۹ نسیم دعوت بات یہ ہے کہ جولوگ خدا کے ہو جاتے ہیں اور واقعی اپنا وجود اور ذرہ ذرہ اپنے جسم کا خدا کی طرف سے سمجھتے ہیں ان کو خدا اور بھی نعمت دیتا ہے اور جو لوگ اپنی روح اور اپنے جسم کا ذرہ ذرہ خدا کی طرف سے نہیں جانتے ان میں تکبر ہوتا ہے اور وہ در اصل خدا کے گہرے احسان اور اس کی کامل پرورش سے منکر ہوتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک جس قدر باپ کو اپنے بیٹے سے روحانی تعلق ہے اس قدر بھی خدا کو اپنے بندہ سے تعلق نہیں کیونکہ وہ مانتے اور قبول کرتے ہیں کہ بیٹا اپنی ماں اور باپ سے اس قدر روحانی تعلق رکھتا ہے کہ ان کے اخلاق سے حصہ لیتا ہے۔ (۲۵) مثلاً جب بیٹے کا باپ شجاعت کی صفت سے موصوف ہے بیٹے میں بھی وہ صفت کسی قدر آ جاتی ہے اور جس باپ میں مادہ فراست اور عقل کا بہت ہے بیٹا بھی اس میں سے کسی قدر حصہ پاتا ہے لیکن آریہ صاحبوں کا یہ مذہب نہیں ہے کہ انسانی روح میں جو اخلاق اور صفات اور قوتیں ہیں وہ خدا سے اس کو ملی ہیں کیونکہ اگر وہ ایسا کہیں تو پھر انہیں روح کو مخلوق ماننا پڑے حالانکہ انسانی اخلاق خدا کے اخلاق کا پر تو ہ ہیں۔ جب خدا نے روحوں کو پیدا کیا تو جس طرح باپ کے اخلاق کا بیٹوں میں اثر آ جاتا ہے ایسا ہی بندوں میں اپنے خدا کا اثر آ گیا۔ اور ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ خدا نے جو انسان کو اپنی طرف بلایا ہے اس لئے اس نے پہلے سے پرستش اور عشق کے مناسب حال قو تیں اس میں رکھ دی ہیں۔ پس وہ قو تیں جو خدا کی طرف سے ہیں خدا کی آواز کو سن لیتی ہیں۔ اسی طرح جب خدا نے چاہا کہ انسان خدا کی معرفت میں ترقی کرے تو اس نے پہلے سے ہی انسانی روح میں معرفت کے حواس پیدا کر رکھے ہیں اور اگر وہ پیدا نہ کرتا تو پھر کیونکر انسان اس کی معرفت حاصل کر سکتا تھا۔ انسان کی رُوح میں جو کچھ ہے دراصل خدا سے ہے اور وہ خدا کی صفات ہیں جو انسانی آئینہ میں ظاہر ہیں ان میں سے کوئی صفت بُری نہیں بلکہ ان کی بد استعمالی اور ان میں افراط تفریط کرنا بُرا ہے شاید کوئی جلدی سے یہ اعتراض کرے کہ انسان میں حسد ہے بغض ہے اور دوسری صفات ذمیمہ ہوتے ہیں پھر وہ کیونکر خدا کی طرف سے ہو سکتے ہیں پس واضح رہے کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں دراصل تمام