نسیمِ دعوت — Page 390
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۸۸ نسیم دعوت لیکن ان چند غلطیوں کو الگ کر کے بہت سی عمدہ باتیں بھی اس مذہب میں موجود ہیں۔ اسی مذہب میں بڑے بڑے رشی اور منی اور جوگی ہوتے رہے ہیں اور نیز اس مذہب میں بڑے بڑے چچی تھی اور ریاضت کرنے والے پائے گئے ہیں اب اگر کوئی چاہے قبول کرے یا نہ کرے۔ لیکن جس مذہب کو پنڈت دیا نند نے پیش کیا ہے اس میں وہ روحانیت نہیں ہے جس کو سناتن دھرم کے بزرگوں نے پایا تھا گو آخر کا ر شرک کو اپنے عقائد میں ملا کر اس روحانیت کو کھود یا مخلوق کا خدا سے حقیقی تعلق تبھی ٹھہرتا ہے جب مخلوق خدا کے ہاتھ سے نکلنے والے ہوں جس پر غیریت کا داغ ہے اس میں یگانگت بھی آنہیں سکتی۔ ہم نے بڑے بڑے پنڈتوں سے سنا ہے کہ پنڈت دیا نند نے جو مذہب پیش کیا ہے یہ اس ملک کے خود رائے لوگوں کا مذہب تھا جو محض اپنی ناقص عقل کے پیرو تھے جیسے یونان کے گمراہ فلاسفر اس لئے وہ وید کی چنداں پر وا نہیں کرتے تھے۔ غایت کا رعوام کو مائل کرنے کے لئے تاویلوں کے ساتھ کوئی وید کی شرقی اپنی تائید میں سناتے تھے تا اس طرح پر اپنے عقائد کو عوام میں پھیلا وہیں ۔ ورنہ اصل عقیدہ وید کا وہی ہے جو سناتن دھرم کی روح میں مخفی ہے۔ ان لوگوں میں کسی زمانہ میں قابل تعریف عملی حالتیں تھیں اور وہ بنوں میں جا کر ریاضت اور عبادت بھی کرتے تھے ۔ اور ان کے دلوں میں نرمی اور سچی تہذیب تھی کیونکہ ان کا مذہب صرف زبان تک نہیں بلکہ دلوں کو صاف کرتے تھے اور وہ پر میشر جس کا کتابوں میں انہوں نے نام سنا تھا چاہتے تھے کہ اسی دنیا میں اس کا درشن ہو جائے اس لئے وہ بہت محنت کرتے تھے اور اُس صدق کا نوران کی پیشانیوں میں ظاہر تھا۔ پھر بعد اس کے ایک اور زمانہ آیا کہ بت پرستی اور دیوتوں کی پوجا اور مورتی پوجا اور اوتاروں کی پوجا بلکہ ہر ایک عجیب چیز کی پوجا سناتن دھرم کا طریق ہو گیا اور وہ اس طریق کو بھول گئے جوطریق راجہ رام چندر اور راجہ کرشن نے اختیار کیا تھا جن پر ان کی راستبازی کی وجہ سے خدا ظاہر ہوا۔