نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 566

نسیمِ دعوت — Page 392

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۹۰ نسیم دعوت انسانی اخلاق الہبی اخلاق کا ظل ہیں کیونکہ انسانی روح خدا سے ہے لیکن کمی یا زیادتی یا بد استعمالی کی وجہ سے وہ صفات ناقص انسانوں میں مکروہ صورت میں دکھائی دیتے ہیں مثلاً حسد انسان میں ایک بہت بُر اخلق ہے جو چاہتا ہے جو ایک شخص سے ایک نعمت زائل ہو کر اس بُرا کو مل جائے لیکن اصل کیفیت حسد کی صرف اس قدر ہے کہ انسان اپنے کسی کمال کے حصول میں یہ روانہیں رکھتا کہ اس کمال میں اُس کا کوئی شریک بھی ہو پس در حقیقت یہ صفت خدا تعالیٰ (۲۶) کی ہے جو اپنے تئیں ہمیشہ وحدہ لاشریک دیکھنا چاہتا ہے۔ پس ایک قسم کی بد استعمالی سے یہ عمد وصفت قابل نفرت ہو گئی ہے۔ ورنہ اس طرح پر یہ صفت مذموم نہیں کہ کمال میں سب سے زیادہ سبقت چاہے اور روحانیت میں تفر داور یکتائی کے درجہ پر اپنے تئیں دیکھنا چاہے۔ پھر ماسوا اس کے اگر خدا کو قادر نہ مانا جاوے تو پھر اس سے ساری امیدیں باطل ہو جاتی ہیں کیونکہ ہماری دُعاؤں کی قبولیت اس بات پر موقوف ہے کہ خدا تعالیٰ جب چاہے ذرات اجسام میں یا ارواح میں وہ قوتیں پیدا کر دے جو ان میں موجود نہ ہوں مثلاً ہم ایک بیمار کے لئے دعا کرتے ہیں اور بظاہر مرنے والے آثار اس میں ہوتے ہیں تب ہماری درخواست ہوتی ہے کہ خدا اس کے ذرات جسم میں ایک ایسی قوت پیدا کر دے جو اس کے وجود کو موت سے بچالے تو ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر وہ دعا قبول ہوتی ہے اور بسا اوقات اول ہمیں علم دیا جاتا ہے کہ یہ شخص مرنے پر ہے اور اس کی زندگی کی قوتوں کا خاتمہ ہے لیکن جب دعا بہت کی جاتی ہے اور انتہا تک پہنچ جاتی ہے اور شدت دعا اور قلق اور کرب سے ہماری حالت ایک موت کی سی ہو جاتی ہے تب ہمیں خدا سے وحی ہوتی ہے کہ اس شخص میں زندگی کی طاقتیں پھر پیدا کی گئیں تب وہ یک دفعہ صحت کے آثار ظاہر کرنے لگتا ہے گویا مردہ سے زندہ ہوگیا۔ ایسا ہی مجھے یاد ہے کہ جب میں نے طاعون کے وقت میں دعا کی کہ اے خدائے قادر ہمیں اس بلا سے بچا اور ہمارے جسم میں وہ ایک تریاقی خاصیت پیدا کر دے جس سے ہم طاعون کی زہر سے بچ جائیں۔ تب وہ خاصیت خدا نے ہم میں پیدا کر دی اور فرمایا کہ میں طاعون