نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 566

نسیمِ دعوت — Page 388

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۸۶ نیم دعوت عاشقانه رشتہ قائم کرنے کے لئے روح میں خود قوت عشقی پیدا کر کے یہ رشتہ آپ پیدا نہیں کیا تو گویا یہ امر اتفاقی ہے کہ پر میشر کی خوش قسمتی سے روحوں میں قوت عشقی پائی گئی اور اگر اس کے مخالف کوئی اتفاق ہوتا یعنی قوت عشقی روحوں میں نہ پائی جاتی تو کبھی لوگوں کو پر میشر کی طرف خیال بھی نہ آتا اور نہ پر میشر اس میں کوئی تدبیر کر سکتا کیونکہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی ۔ لیکن ساتھ ہی اس بات کو بھی سوچنا چاہیے کہ پرمیشر کا بھگتی اور عبادت اور نیک اعمال کے لئے مواخذہ کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ اس نے خود محبت اور اطاعت کی قوتیں انسان کی روح کے اندر رکھی ہیں لہذا وہ چاہتا ہے کہ انسان جس میں خود اس نے یہ قوتیں رکھی ہیں اس کی محبت اور اطاعت میں محو ہو جائے ورنہ پر میشر میں یہ خواہش پیدا کیوں ہوئی کہ لوگ اس سے محبت کریں اس کی اطاعت کریں اور اس کی مرضی کے موافق رفتار اور گفتار بناویں ہم دیکھتے ہیں کہ باہمی کشش کے لئے کسی قسم کا اتحاد ضروری ہے انسان انسان کے ساتھ انس رکھتا ہے اور بکری بکری کے ساتھ اور گائے گائے کے ساتھ اور ایک پرندہ اپنے ہم قسم پرندہ کے ساتھ پس جبکہ انسان کی روحانی اور جسمانی قوتوں کو پر میشر کے ساتھ کوئی بھی رشتہ نہیں تو کس اشتراک سے باہمی کشش درمیان ہو ، صرف جوڑنے کا اشتراک کافی نہیں کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں جوڑنے میں پر میشر اور ایک نجار یا آہن گر برابر ہیں اگر ہمارا کوئی عضوا اپنے ٹھکانہ سے اتر جائے اور کوئی شخص اس کو اصل جگہ سے جوڑ دے یا مثلاً اگر کسی کا ناک کٹ جائے اور کوئی شخص زندہ گوشت اس ناک پر چڑھا کر ناک کو درست کر دے تو کیا وہ اس کا پر میشر ہو جائے گا۔ خدا کو پہلی کتابوں میں استعارہ کے طور پر پتا یعنی باپ قرار دیا گیا ہے اور قرآن شریف میں بھی فرمایا ہے۔ فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَ كُفر یعنی تم خدا کو ایسا یاد کرو جیسا کہ تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو اور فرمایا الله نُورُ السَّمَوتِ وَالْاَرْضِ " یعنی خدا اصل نور ہے۔ ہر ایک نور زمین و آسمان کا اسی سے نکلا ہے۔ پس خدا کا نام استعارہ پتا رکھنا اور ہر ایک نور کی جڑ اس کو قرار دینا اسی کی طرف البقرة : ٢٠١ ٢ النور : ٣٦