نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 389 of 566

نسیمِ دعوت — Page 389

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۸۷ اشارہ کرتا ہے کہ انسانی روح کا خدا سے کوئی بھاری علاقہ ہے۔ نسیم دعوت عربی میں آدمی کو انسان کہتے ہیں یعنی جس میں دو انس ہیں ایک اُنس خدا کی اور ایک انس بنی نوع کی۔ اور اسی طرح ہندی میں اس کا نام مانس ہے جو مانوس کا مخفف ہے اس سے ظاہر ہے کہ انسان اپنے خدا سے طبعی اُنس رکھتا ہے اور مشرکانہ غلطی بھی دراصل اسی بچے خدا کی تلاش کی وجہ سے ہے۔ ہم اپنے کامل ایمان اور پوری معرفت سے یہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ اصول آریہ سماجیوں کا ہرگز درست نہیں کہ ارواح اور ذرات اپنی تمام قوتوں کے ساتھ قدیم اور انا دی اور غیر مخلوق ہیں۔ اس سے تمام وہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے جو خدا میں اور اس کے بندوں میں ہے۔ یہ ایک نیا اور مکر وہ مذہب ہے جو پنڈت دیا نند نے پیش کیا ہے ہم نہیں جانتے کہ وید سے کہاں تک اس مذہب کا تعلق ہے لیکن ہم اس پر بحث کرتے ہیں کہ یہ اصول جو آریہ سماجیوں نے اپنے ہاتھ سے شائع کیا ہے یہ عقل سلیم کے نزدیک کامل معرفت اور کامل غور اور کامل سوچ کے بعد ہرگز درست نہیں۔ سناتن دھرم کا اصول جو اس کے مقابل پر پڑا ہوا ہے اس کو اگر چہ ویدانت کے بے جا مبالغہ نے بدشکل کر دیا ہے اور ویدانتیوں کی افراط نے بہت سے اعتراضات کا موقعہ دے دیا ہے تاہم اس میں سچائی کی ایک چمک ہے اگر اس عقیدہ کو زوائد سے الگ کر دیا جاوے تو ماحصل اس کا یہی ہوتا ہے کہ ہر ایک چیز پر میشر کے ہی ہاتھ سے نکلی ہے پس اس صورت میں تمام شبہات دور ہو جاتے ہیں اور ماننا پڑتا ہے کہ بموجب اصول سناتن دھرم کے وید کا عقیدہ بھی یہی ہے کہ یہ تمام ارواح اور ذرات اجسام اور ان کی قوتیں اور طاقتیں اور گن اور خاصیتیں خدا کی طرف سے ہیں۔ یا در ہے کہ آریہ ورت میں مذہب قدیم جس پر کروڑہا انسان پائے جاتے ہیں سناتن دھرم ہے اگر چہ اس مذہب کو عوام نے بگاڑ دیا ہے اور مورتی پوجا اور دیویوں کی پرستش اور بہت سی مشر کا نہ بدعتیں اور اوتاروں کو خدا سمجھنا گویا اس مذہب کی جز ہو گیا ہے۔