نسیمِ دعوت — Page 387
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۸۵ نسیم دعوت پیدا کرنے والا بھی ہو اور جبکہ وہ سب خاصیتیں اور قوتیں اور گن اور طرح طرح کی طاقتیں ارواح اور ذرات اجسام میں قدیم اور انادی ہیں جیسا کہ خود ارواح اور ذرات اجسام قدیم اور انا دی ہیں تو اس صورت میں ماننا پڑتا ہے کہ جس پر میشر نے ان ارواح اور ذرات کو پیدا نہیں کیا اس نے ان کی قوتوں کو بھی پیدا نہیں کیا کیونکہ کوئی چیز اپنی قوتوں سے الگ نہیں رہ سکتی۔ ہر ایک چیز کی قوتیں اس کے ساتھ ہوتی ہیں اور وہی اس کی صورت نوعیہ کو قائم رکھتی ہیں اور جب وہ قوت اور گن باطل ہو جائے تو ساتھ ہی وہ چیز باطل ہو جاتی ہے پس اگر یہ مانا جائے کہ پر میشر نے روحوں اور ذرات عالم کو پیدا نہیں کیا۔ تو ساتھ ہی ماننا پڑتا ہے کہ اس نے اس کی قوتوں اور گنوں اور خاصیتوں کو بھی پیدا نہیں کیا اور اس صورت میں بدیہی طور پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پر میشر کی قدرت اور قوت انسانی قوت اور قدرت سے بڑھ کر نہیں کیونکہ ہم بار بار کہتے ہیں کہ انسان سے زیادہ پر میشر میں یہی بات ہے کہ وہ قوتوں اور گنوں اور خاصیتوں کا اپنی قدرت سے پیدا کرنے والا ہے مگر انسان کو کیسا ہی انواع اقسام کے ایجادات میں سبقت لے جائے مگر وہ قوتوں اور گنوں اور خاصیتوں کو اپنے مطلب کے موافق ارواح اور اجسام میں پیدا نہیں کر سکتا۔ ہاں جو خدا کی طرف سے پہلے ہی سے قو تیں اور گن اور خاصیتیں موجود ہیں ان سے کام لیتا ہے مگر خدا نے انسانوں میں جس مطلب کا ارادہ کیا ہے پہلے سے اس مطلب کی تکمیل کے لئے تمام قو تیں خود پیدا کر رکھی ہیں مثلاً انسانی روحوں میں ایک قوت عشقی موجود ہے اور کو کوئی انسان اپنی غلطی سے دوسرے سے محبت کرے اور اپنے عشق کا محل کسی اور کو ٹھہر اوے لیکن عقل سلیم بڑی آسانی سے سمجھ سکتی ہے کہ یہ قوت عشقی اس لئے روح میں رکھی گئی ہے کہ تا وہ اپنے محبوب حقیقی سے جو اس کا خدا ہے اپنے سارے دل اور ساری طاقت اور سارے جوش سے پیار کرے۔ پس کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ قوت عشقی جو انسانی روح میں موجود ہے جس کی موجیں (۲۲) نا پیدا کنار ہیں اور جس کے کمال تموج کے وقت انسان اپنی جان سے بھی دست بردار ہونے کو طیار ہوتا ہے یہ خود بخود روح میں قدیم سے ہے، ہر گز نہیں۔ اگر خدا نے انسان اور اپنی ذات میں