نسیمِ دعوت — Page 372
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۷۰ نسیم دعوت میں موجود ہیں فیصدی اُن میں سے پانچ ایسے پنڈت پائے جاتے ہیں جو چاروں وید سنسکرت میں جانتے ہیں اگر چاہیں تو میں کسی سرکاری بینک میں یہ روپیہ جمع کراسکتا ہوں ۔ اب بتلاؤ کہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ خود را فضیحت و دیگرے را نصیحت اگر حیا اور سچائی سے کام لیا جاتا تو ایسے اعتراضات کی کیا ضرورت تھی جو خود آریہ سماج پر ہی وارد ہوتے ہیں۔ ہمارے دیکھنے کی بات ہے کہ آریوں کا یہ مجموعہ صرف اس طرح پر طیار ہوا ہے کہ مہاجنوں ساہوکاروں ملازموں کو طرح طرح کے حیلوں سے ترغیب دی گئی کہ تم آریہ سماج میں نام لکھا دو تو بہت سے لالہ صاحبوں نے اس طرح پر نام لکھا رکھے ہیں اور اصل حقیقت کی کچھ بھی خبر نہیں اور اکثروں کے گھروں میں دیوتا پرستی اور مورتی پوجا کے تعلقات بھی بدستور قائم ہیں یہ بات ایسی مخفی نہیں ہے جس کی تحقیق کرنے کیلئے کچھ زیادہ مشقت کی حاجت ہو تم کسی شہر یا قصبہ میں چلے جاؤ اور تحقیقات کر لو کہ کس قدر اس میں آریہ سماجی ہیں۔ اور کس قدر ان میں سے ویددان ہیں پس جبکہ آریہ سماجی بننے کی یہ کیفیت ہے تو پھر کون ایسے تعلیم یافتہ نومسلم آریوں پر اعتراض کر سکتا ہے جو اول ہندو تھے اور پھر سناتن دھرم اور آریوں کے اصولوں کو خوب معلوم کر کے اور اس کے مقابل پر اسلام کے اصول دیکھ کر اور سچائی اور عظمت الہی ان میں مشاہدہ کر کے مشرف با سلام ہو گئے محض خدا کے لئے دُکھ اُٹھائے اور بیویوں بھائیوں عزیزوں سے الگ ہوئے اور قوم کی گالیاں سنیں ۔ ان نو مسلم آریوں کے تبدیل مذہب کو غرض نفسانی پر محمول کرنا یہ طعن ہندوؤں کا کچھ نیا نہیں بلکہ قدیم سے اس مذہب کے متعصب لوگوں کی عادت ہے کہ جب کوئی اور معقول جواب نہیں آتا تو یہی کہہ دیا کرتے ہیں کہ مال کے لئے یا کسی عورت کے لئے ہندو مذہب کو چھوڑ دیا ہے اور یہ بھی کہہ دیا کرتے ہیں کہ کروڑہا ہندو جو مسلمان ہو گئے وہ مسلمان بادشاہوں کے جبر سے ہوئے تھے۔ بعض ہندو جوش میں آکر یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ مسلمان ہونے والے دراصل مسلمانوں کا ہی نطفہ ہیں اور نہیں سوچتے کہ یہ اعتراض تو ہماری