نسیمِ دعوت — Page 371
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۶۹ نسیم دعوت قادیان کے آریہ سماجیوں نے نو مسلم آریوں پر اعتراض کرنے کے وقت جھوٹ اور حق پوشی سے کام نہیں لیا تو ہمیں دکھلاویں کہ ان کی جماعت آریوں میں سے کتنے وہ لوگ ہیں جن کو رگ اور یجر اور شام اور انتھر بن وید سب کنٹھ ہیں اگر اس بات میں وہ سچے نکلے کہ اپنی سب جماعت انہوں نے ویددان ثابت کر دی تو کم سے کم ہم ان کو شریف آدمی مان لیں گے جنہوں نے اپنے اعتراض میں کسی ایسی جھوٹی بات کو پیش نہیں کیا جس کے آپ وہ پابند نہیں تھے۔ یہ کس کو معلوم نہیں کہ یہ تمام مجمع قادیان والوں کا ایک بازاری دوکان نشینوں کا مجمع ہے جن میں سے کوئی ساہوکارہ کا شغل رکھتا ہے اور کوئی بزازی کرتا ہے اور کوئی نون تیل کی دوکان رکھتا ہے اور جہاں تک ہم کو علم ہے ان میں سے ایک بھی ویددان نہیں پس کیا ان لوگوں کے مقابل پر وہ شریف نو مسلم آریہ جاہل کہلا سکتے ہیں جو بعض ان کے بی۔ اے تک تعلیم یافتہ ہیں اور انگریزی اور اردو ترجمے ویدوں کے پڑھتے ہیں اور دن رات دین کی تعلیم پاتے ہیں۔ پھر ماسوا اس کے یہ ہمارا دعویٰ صرف قادیان تک محدود نہیں بلکہ ہم اس امر کی پوری (۷) اطلاع رکھتے ہیں کہ ہر ایک شہر اور قصبہ کا آریہ سماج اکثر ایسے ہی ذخیرہ سے بھرا ہوا ہے اور یہ خیال ہرگز ہرگز صحیح نہیں ہے کہ جن لوگوں نے سناتن دھرم کو الوداع کہہ کر با وجود سخت اختلاف کے آریہ سماجی بننا قبول کیا ہے پہلے وہ اپنے گھر سے چاروں وید پڑھ کر آئے تھے بلکہ ہم زور سے کہتے ہیں کہ تمام پنجاب اور ہندوستان میں بجز معدودے چند جن کو انگلیوں پر گن سکتے ہیں تمام مجموعہ آریوں کا ایسا ہی ہے کہ ہر ایک دوکاندار یا ساہوکار نے آریوں میں نام لکھا رکھا ہے اور خود بجز بڑے پیٹ اور لمبی موچھوں اور دوکان کے حساب کے اور کچھ یاد نہیں۔ اور یہ باتیں میری بے تحقیق نہیں بلکہ میں آریہ صاحبوں کو ہزار روپیہ بطور انعام دینے کو طیار ہوں اگر وہ میرے پر ثابت کر دیں کہ جس قدران کی فہرست میں مرد و زن آریہ درج ہیں یا یوں کہو کہ جس قدر آریہ سماجی کہلانے والے مرد ہوں یا عورات ہوں برٹش انڈیا