نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 566

نسیمِ دعوت — Page 373

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۷۱ نسیم دعوت ہی کروڑہا عورتوں پر آتا ہے۔ آج کل کی تحقیقات سے ثابت ہے کہ اسلامی بادشاہوں کے عہد کا زمانہ جو سات سو برس تک تھا اگر انگریزوں کے زمانہ سے جو سو برس تک ابھی گزرا ہے مقابلہ کیا جائے تو اس میں جس قدر ہندو کثرت سے مسلمان ہوئے ہیں اس کی اوسط زیادہ نکلتی ہے اور خود غرضی کا الزام تو بہت ہی قابل شرم ہے کیونکہ بعض ہند وامیروں، رئیسوں اور راجوں نے اسلام کے بعد کئی لاکھ روپیہ دینی امداد میں دیا ہے اور ہمارے غریب نو مسلم آریہ ہمیشہ اپنی کمائی سے ہمیں چندہ دیتے ہیں پھر تعجب کہ یہ مخالف لوگ ایسے بے جا بہتانوں سے باز نہیں آتے اور جس حالت میں اکثر آریہ اپنی عورتوں کو چھوڑ کر اسلام کی طرف آتے ہیں تو اس صورت میں پھر ان کو عورتوں کا الزام دینا کیا اس قسم کے اعتراضات دیانت کے اعتراض ہیں مثلاً ذرا سوچو کہ سردار فضل حق اور شیخ عبدالرحیم جو نو مسلم آریہ ہیں ہندو ہونے کی حالت میں کس قسم کی حاجت رکھتے تھے جو اسلام سے پوری ہوئی ۔ تبدیل مذہب کے لئے جس قدر علم درکار ہے اس کی سچی فلاسفی اب ہم فائدہ عام کے لئے اس امر کی کچی فلاسفی بیان کرتے ہیں کہ تبدیل مذہب کے لئے کس قدر واقفیت ضروری ہے۔ کیا بقول آریہ سماج قادیان جب مثلاً ایک ہندو تبدیل مذہب کرنے لگے تو اول اس کو چاروں وید سنسکرت میں پڑھ لینے چاہئیں یا عقل اور انصاف کے رو سے اس میں کوئی اور قاعدہ ہے۔ پس واضح ہو کہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں یہ ہرگز صحیح نہیں ہے کہ تبدیل مذہب 49 کے لئے ایک ہندو کا یہ فرض ہے کہ اول چاروں وید سبقا سبقا کسی پنڈت سے پڑھ لے اور پھر اگر چاہے تو کوئی اور مذہب اختیار کرے کیونکہ اگر یہ صحیح ہو تو مذہب کی تبدیلی کے لئے صرف وہی لوگ لائق ہوں گے جو وید دان پنڈت ہوں حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ صد ہا ہندو جو ویدوں کا ایک صفحہ بھی نہیں پڑھ سکتے سناتن دھرم سے نکل کر آریہ سماجی بنتے جاتے ہیں اور