نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 70 of 550

نجم الہدیٰ — Page 70

روحانی خزائن جلد ۱۴ نجم الهدى ولا يُهددون ولا يتوعدون علی اور اور کسی معصیت پر کچھ زجر اور تو یخ نہیں کرتے اور کسی بڑے گناہ پر کچھ بہت معصية۔ ولا يُبالغون في ملامة عند ملامت نہیں کرتے کیونکہ نو عیسائی پاک ارتكاب كبيرة، بما تفيأوا ظل كَفَّارةٍ مُطَهَّرة۔ فكذالك يُزيدونهم جرأة مسلمين في حين، إلا قليلا من کرنے والے کفارہ کے سایہ کے نیچے آجاتے ہیں ۔ اسی طرح نو عیسائیوں کی على جرأة حتى تكون الإباحة جرأت بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ ان میں لأكثر هم دربة، ويحسبون سهوكة سے اکثر کی اباحت عادت ہو جاتی ہے اور رياها طيبا وطيبة ويتبرءون من اس کی بد بو کو خوشبو اور پاک خیال کرتے الإسلام، ويسبون نبينا خير الأنام ہیں اور اسلام سے سخت بیزار ہو جاتے ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں ويقذفون معادين بعد ما كانوا | دیتے ہیں بعد اس کے جو کسی وقت مسلمان تھے اور تھوڑے ایسے بھی ہیں جو شرم رکھتے المستحيين وكذالك يفعلون | ہیں ۔ اور اسی طرح کرتے رہتے ہیں تا کہ ليرضوا القسوس ويستوعبوا الفلوس | پادریوں کو راضی کریں اور ان سے پیسہ ويكونوا من المتموّلين فيحصل اکٹھا کریں اور مالدار ہو جائیں ۔ سو اُن کو بر ارتکاب بیچ گونه کار تباه و امر منکر زبان ملام نمی کشانند و ہر چہ گنا ہے بزرگ سر برزند چنداں مبالغه در نکوهش نمی نمایند - بہت اینکه متقصران در زیر سایه کفاره پاک کننده جائے میگیرند - خلاصه بر این نهج ہر روز جرات و دلیری در انها می افزاید تا آنکه با باحت خو گرفته شوند و بوئی بدش را بوئی خوش پندارند و از اسلام بیزار و نبی کریم مارا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نا گفتنی با گویند بعد از انکه وقتی مسلمان بودند و هم چنین رفتار دارند تا کشیشان را در دام آرند وازانها وجه نقدی بستانند و صاحب مال و دولت گردند - خلاصه