نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 69 of 550

نجم الہدیٰ — Page 69

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۶۹ نجم الهدى الوجد وبتاريج الشوق إلى الرفه اور شراب نوشی کے شوق سے عیسائیت کو اختیار کیا (۱۳) وشرب المدام۔ ثم مع ذالك كانوا من اور پھر با وجود ان حاجتوں کے وہ لوگ سفیہ اور السفهاء والجهلاء ، وما كان لهم جاہل تھے اور نہ علم اور عقل سے کچھ حصہ تھا اور نصيب من العلم والدهاء ، ولا حظ من نہ پرہیز گاری اور عفت سے کچھ بہرہ ۔ اسی لئے العفة والاتقاء لا جرم أنهم آثروا انہوں نے نفس امارہ کی خواہشوں کو اختیار کیا اور أهواء النفس الأمارة، وألُوَتُ بهم ان كى بدبختی نے ہلاکت اور گمراہی کی طرف ان شقوتهم إلى الخسارة۔ وکذالک کا منہ پھیر دیا۔ اسی طرح بہت سے بزرگوں اور كثير من ذرية الأماثل والأفاضل سادات اور شریفوں کی اولا دعیسائیوں کی طرف والسادات، أجمعوا على الجنوح إليهم جھک گئی اور گمراہی کے پیالے پئے کیونکہ انہوں وسُقُوا كأس الضلالات، بما آنسوا نے عیسائی مذہب کو دیکھا کہ عیسائی ہونے والوں النصرانية تفتح على المتنصرين أبواب پر اباحت کے دروازے کھولے ہوئے ہیں اور إباحة، وتـخـرجـهـم مـن مضائق حرمة حرمت اور عدمِ جنت کی تنگیوں سے اُن کو باہر وعدم حلة، ثم يواسيهم القسوس فی نکال دیا ہے ۔ پھر پادری لوگ اُن کی ابتدائی مطرف أيامهم بمال و دولة زمانہ میں مال اور دولت سے ان کی مدد کرتے ہیں و مے نوشی جامعه تنصر در بر کردند ۔ بعلاوه هیچو کسان از نادانان و پست فطرتان و از زینت علم عاری (۱۳) و از لباس عفت و تقومی بکلی محروم بودند از ہمیں سبب دنبال ہوائے نفس اماره افتاده بودند و شومئی بخت روئے توجہ انہارا بسوئی زیان کاری و تباہی بگردانید ۔ ہم چنین بسیاری از اولاد بزرگان و شرفاء و سادات میل به عیسویت کردند و کاسہ ہائی گمراہی را لبالب بنوشیدند زیرا که دیدند عیسویت بر متنصران درہائی اباحت را کشاده و از تمییز در میانه حرام و حلال انها را بکلی معاف داشته است و مع این همه کشیشان در آغاز حال با مال و منال دست انهارا میگیرند و