نجم الہدیٰ — Page 71
روحانی خزائن جلد ۱۴ اے نجم الهدى لهم نضرة بنضارهم، وزهرة پادریوں کے روپیہ سے تازگی حاصل ہو جاتی ہے اور ان کے پھولوں سے وہ تازہ حال رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنی خوشحالی اور آسودگی میں ایسے بإظهارهم حتى يكونوا في رفههم كحديقة أخذت زخرفها وازينت ہو جاتے ہیں کہ گویا وہ ایک باغ ہیں مزین اور وتنوعت أزاهيرها وتلوّنت آراستہ جس کے پھول گونا گوں اور رنگارنگ ہیں بتلك الخصائل والسب والهذيان وکذالک قسوسهم يحبونهم اور اسی طرح ان کے پادری ان خصلتوں اور بد گوئی اور بد زبانی اور کج بحثی اور بیہودگی کی وجہ سے ان سے پیار کرتے ہیں اور گمان کرتے ہیں والمجادلات وهذر ،اللسان، ويظنون که وه دلی خلوص سے ان کے دامن سے وابستہ أنهـم التـقـوا بـأهـدا بهم بخلوص ہو گئے ۔ پس ہر ایک جگہ جو وہ وارد ہوں اور ہر الجنان۔ فيعتمدون علیهم فی کل ایک فرودگاہ میں جو وہ اتریں ان پر اعتماد کرتے ہیں اور ان لوگوں کی ظاہری صفائی اور نیک بختوں کا سامنہ بنایا ہوا پادریوں کو اس دھوکا مورد يردونه، ومعرس يتوسدونه، وتستهويهم خضرة دمنتهم للمنادمة میں ڈالتا ہے کہ وہ اپنے ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونے وخدعة سمتهم بالمناسمة، ويقبلون اور ہمراز ہونے کیلئے ان لوگوں کو پسند کر لیتے ہیں عليهم بالمن والإحسان، والجود و اور احسان اور مروت کے ساتھ پیش آتے مال کشیهان برخورمی و تازگی انها می افزاید و گلهائی استقفان حال انها را شادان می نماید - تا آنکه از میں خوش بختی ہوئی باغے ہستید از بس آراستہ و پیراسته و گلہائی گونا گوں و شگوفہائی بوقلموں بر آورده و همچنین کشیشان آن سقط گفتن و زبان به نا واجب کشودن و کج بحثی و بے راہ روی انها را بجان دوست دارند و پندارند که انها با خلاص هر چه تمامتر خود را بد امن ایشان بسته اند - لا جرم در ہر مقام و ہر موقع اعتماد بر انها کنند صفائی ظاہر و روی پارسایانه انها کشیشان را فریب دهد تا انہارا شریک نواله و پیاله سازند و امباز و دمساز راز نمایند و هرگونه منت واحسان بر انها کنند ۔ پس ایس متحضران