نجم الہدیٰ — Page 68
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۶۸ نجم الهدى تشتت شملها، فليبك عليها من كان اور ان کی تمام جمعیت متفرق ہو گئی ۔ اب جس من الباكين۔ ولقد كثر أسفى على نے رونا ہواس ملک پر رووے اور مجھے اسلام الآثار الأولى کیف زالت و علی أیام کے پہلے آثار پر بہت غم ہوا کہ وہ کیونکر دور ہو | الهدى كيف أحالت والناس تركوا گئے اور نیز دنوں پر بھی افسوس ہوا کہ وہ کیسے بدل گئے اور لوگوں نے سیدھی راہ کو چھوڑ دیا اور المحجة ومالوا إلى أودية وشعاب۔ وادیوں اور ٹیڑھی راہوں اور دشوار گذار اور تنگ ومنافذ صعاب، ومضائق غير رحاب۔ طریقوں کی طرف جھک گئے۔ کئی ایسے آدمی وكم من أناس كانوا يزجون الزمان | تھے۔ کہ جو اسلام میں بڑی سختی سے اوقات بری کرتے تھے اور غموں میں عمر کاٹتے بالاكتياب والاغتمام، ثم رأوا في تھے پھر عیسائی مذہب میں انہوں نے ایک الملة النصرانية مرتعا، ووجدوا في چراگاہ دیکھا اور عیسائیوں کو اپنی دنیوی أهلها مطمعا فالجاهم شوائب الچوں کا محل پایا۔ سو بھوک کی تکالیف نے المجاعة إلى أن يلحقوا بتلك ان کو اس بات کی طرف مضطر کیا کہ وہ الجماعة۔ فرفضوا مذهب الإسلام، عیسائیوں میں جاملیں۔ لہذا انہوں نے اسلام کو وتنصروا من برح ترک کر کے سختی کی وجہ سے اور نیز عیاشی ببؤس في الإسلام، وينفدون العمر شده و جمعیت اوشان از هم پاشیده است - اکنون باید برایں بلا دسر شک خون بریز دہر کہ گریستن می خواهد و من اندوه ها می خورم بر آثار اولین اسلام که چگونه ناپدید گردیده و آن روز ہائی راستی و روشنی به تاریکی و سیاهی عوض شده مردم راه راست را گزاشتہ سر بہ واد یہائے جانفر سائے مردم آن ما وراہ ہائے پیچانیی داده اند - بسا آدم که در اسلام به تنگی بسری بردند و روزگار به اندوه می گز رانیدند در دیا نہ نصاری چراگا ہے دیدند و نصرانیان را محل ہوا و آز خود یافتند ۔ لہذا زحمت گرسنگی انها را بر آن آورد که با نصاری در آمیختند و از بیم سختی وتنگی و هم آرزوی تن پروری