نجم الہدیٰ — Page 67
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۶۷ نجم الهدى وانتشروا كالجراد في هذه الأكناف بيوت الشرفاء۔ فالغرض أنهم زرعوا اس غرض کے لئے شریفوں کے گھروں المكائـد مـن جـمـيـع الأنـحـاء ، میں بھیجیں ۔ پس حاصل کلام یہ کہ انہوں نے ہر ایک طور سے مکر کا بیج بویا اور ٹڈی کی طرح ان اطراف میں منتشر ہو گئے اور ہر ایک کو جو ہدایت والأرجاء ، وقلوا كل من أحيا معالم | کے نشانوں کو زندہ کرتا تھا دشمن پکڑا اور ہمارے الهدى، وجعلوا بلادنا دار البلاء ملک کو بلا اور موت کی جگہ بنا دیا اور ان کے والردى۔ وملّتهم الباطلة أحرقت مذہب باطل نے ہمارے ملک کی نیکیوں کو مجالس ديارنا وأكلتها، وما بقى دار دور کر دیا اور کوئی گھر ایسا نہ رہا جس میں یہ إلا دخلتها، ولم يجد أهلها العوام ذهب باطل داخل نہ ہو اور اس ملک کے باشندے جو اکثر عوام میں ہیں مقابلہ کی تاب نہ لا سکے اور نہ گریز کے لئے کوئی حیلہ ملا پس فصبت مصائب على الإسلام اسلام پر وہ مصیبتیں پڑیں جن کی نظیر پہلے زمانوں ما مضى مثلها في سابق الأيام۔ میں نہیں ہے ۔ پس وہ اس شہر کی طرح ہو گیا جو فنراه كبلدة خاوية على العروش، مسمار ہو جائے اور اس جنگل کی طرح جو وحشیوں وفلاة مملوة من الوحوش، وإن بلادنا سے بھر جائے اور اب ہمارا ملک وہ ملک ہے الآن بلاد انزعج أهلها، و جس کے باشندے جڑ سے اکھاڑے گئے از دانهائی مکیدت و خدیعت در خرمن دارند انپاشته اند وچوں مورد ملخ در ہر چہارسوئے بلاد ما پراگنده شده اند و خیلے دشمن دارند شخصی را که دین حق را زنده کند ۔ وشہر ہائے مارا ما وائی بلا و آفات ساخته اند - دیانہ باطله انها بنیاد هر گونه نیکی را از پا در آورده و خانه نمانده که این زور پر شرور در آن داخل نشده - اہائی ایس بلاد که از عامه ناس می باشند در خود با تاب و توان مقاومه با انها ندیدند و نه راه گزیر و خلاص فهمیدند - لا جرم بر اسلام مصیبت ہا نزول آورد کہ زمانہ ہائے پیشین نظیر آن موجود نداشته اند و اسلام چون شہری گردید که زیروز بر و بکلی مسمار بشود یا چون صحرائے شده که مسکن در و دام بگردد - اکنون ساکنان بلاد ما کسانی می باشند که از بیخ بر کندیده للدفاع استطاعة، ولا للفرار حيلة |