نجم الہدیٰ — Page 62
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۶۲ نجم الهدى أضل الناس ،وما هدى، وأضر الملة اور لوگوں کو گمراہ کیا اور ہدایت نہ کی اور دین اسلام كالعداء ومـا جـلّـى مطلعها بنور کو دشمنوں کی طرح ضرر پہنچایا اور نور صدق سے صدقه وما راح بهمها وما غدا، بل اس کے مطلع کو روشن نہ کیا اور اس کی غم خواری میں نہ کبھی صبح کی اور نہ شام اور اس کی اصلاح کیلئے زاد بكذبه صداء الأذهان، ونشر | بمفترياته هباء الافتنان؟ كلا بل إنه | يخزى المفترين، ويقطع دابر | الدجالين، ويلحقهم بالملعونين | السابقين۔ ثم اعلموا أني قد كنتُ ألهمت کچھ تگ و دو نہ کی ۔ بلکہ اپنے جھوٹ کے ساتھ ذہنوں کا زنگ بڑھایا اور اپنے افترا کی باتوں کے ساتھ امت میں فتنہ کی گرد و غبار پیدا کر دی ۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ مفتریوں کو رسوا کرتا اور اُن کی جڑ کاٹ کر ان کے ساتھ ان کو ملا دیتا ہے جو اُن سے پہلے لعنت کئے گئے ہیں۔ من أمد طويل، وعُلِّمْتُ مَا عَلِمْتُ من اور پھر یہ بات یاد رکھو کہ ایک مدت رب جليل، ولكنى استثرت عن الخلق سے مجھے الہام ہو رہا تھا جس کو میں نے لوگوں حينا، لا يعرفون لي عرينا، وما اخترت سے ایک عرصہ تک چھپایا اور اپنے تئیں ظاہر منهم نجيا وقرينا۔ فلما أمِرتُ نہ کیا ۔ پھر میں ظاہر کرنے کیلئے مامور ہوا للإظهار ، وقطعت سلسلة جب میں نے حکم کی تعمیل کی اور تمہیں و مردم را در مغاک گمرہی سرنگون انداخته و چون دشمنان در پینے آزار اسلام برآمده و از صدق مطلع اش را روشن نساخته و با مداد و شامگاهان هرگز از بهر بہبود آن کوششے نکرده و از پیئے اصلاح مردم اند کے تگ و دو ہم روا نداشته بل مزیدی بر آن از دروغ و جعل خویش زنگ بر ذہنها افزودہ ۔ و از افترائی خود در میانه امت گرد و غبار فتنه برانگیخته - نی نی بلکه خدا مفتری را رسوا کند و بیخ و جالان را بر کنده انها را با ملعونان پیشین پیوند می بخشد پوشیده نماند که دیر باز است این الهام بهمن شد ولی از مردم پوشیده داشتم - باز چون مامور به اظهار شدم ۔