نجم الہدیٰ — Page 63
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۶۳ نجم الهدى الاعتذار، فلبیت الصائت كطائعين۔ حدیثیں پہنچ چکی ہیں اور تم سن چکے ہو کہ مسیح موعود وقد بلغكم الأحاديث من المحدّثین اور مہدی موعود صلیب کے غلبہ کے وقت ظاہر وسمعتم أن المسيح الموعود ہوگا اور صلیبی خرابیوں اور گمراہیوں کی تلافی والمهدى الموعود يخرج عند غلبہ کرے گا اور مستعد لوگوں کو ہدایت دے گا اور الصليب، ويتلافى ما سلف من جن کو ان کے نفسانی ننگ اور سرکشی قبول الإضلال والتخريب، ويهدى قوما کرنے سے روکے گی وہ اتمام حجت کے حربہ مهتدين و الذين منعتهم الحمية مقتول کی طرح ہو جائیں گے۔ اور مسیح سے والنفس الأبية من القبول، فيصيرون میں نزول کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا تا کہ بحربة الإفحام كالمقتول۔ وأمّا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ مسیح زرہ اور ۱۲ نزوله إلى الأعداء فأشير فيه إلى أنه ہتھیاروں کے ساتھ ظاہر نہیں ہوگا اور کوئی رجل من الفقراء ، لا يكون له دروع لڑائی اس کو پیش نہیں آئے گی بلکہ اس کی وأسلحة، ولا عساكر و مملكة ، ولا تنبرى له ملحمة، بل تكون له سلطنة في بادشاہت آسمان میں ہوگی اور اُس کا حربہ اس کی دعا ہو گی ۔ سو آپ لوگوں نے اپنی السماء، وحربة من الدعاء۔ فقد رأيتم آنکھوں سے دیکھ لیا کہ دین صلیبی اونچا ہو گیا بأعينكم أن دين الصليب قد علا۔ و چاره از قبول آواز حق نداشتم لذا بر خلق عرضه دادم و بر شما آشکار است چنانچہ مدعائے آثار و اخبار است که مسیح موعود در وقت غلبه صلیب بروز کند و جبر کسر فتنہ ہاو کبھرا ہی ہائے صلیب کا راو باشد و دلهائی مستعد را ہدایت بخشد و انہائے کہ ننگ و عارشان از قبول دعوتش باز داده البته با حربه اتمام حجت کشتہ وارے شوند ۔ لفظ نزول برائے اواشارت بدان است که او شخص فقیر و ناتوان و سلاح وزره و سلطنت و سپاه و حشمت اور انباشد - ورزم و پیکار اور ا در پیش نیاید ۔ بل بادشاہی او ۱۳) در آسمان و سلاح و زره او دعائی او باشد - اکنون شما بچشم سردیدید که دیانه صلیبی بلند شده