نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 550

نجم الہدیٰ — Page 61

روحانی خزائن جلد ۱۴ บ نجم الهدى وصرم قـلـبـي مـن الأهل والعيال ، اور اہل وعیال سے میرا دل کاٹا گیا یہاں تک حتى تم فعل الله وشرح صدری که خدا تعالیٰ کا فعل پورا ہو گیا اور میرا راستہ وأودع أنوار بدری ففزت منه کھولا گیا اور میرے چاند کا نور مجھ میں بھرا بسهمين: نور الإلهام ونور العينين ۔ گیا۔ پس اس سے مجھے دو حصے ملے ۔ الہام وهذا فضل الله لا راد لفضله، وإنه كانور اور عقل کا نور ۔ اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور کوئی اس کے فضل کو رد نہیں کر سکتا۔ ذو فضل مستبين۔ وقد ذكرت أن إلهاماتي مملوة | پھر میرے الہام غیب کی پیشگوئیوں من أنباء الغيب، والغيب البحت سے بھرے ہوئے ہیں اور غیب اللہ جل شانہ قد خص بذات الله من غیر الشک کی ذات سے خاص ہے اور ممکن نہیں کہ والريب، ولا يمكن أن يُظهر الله على اللہ تعالیٰ اپنے غیب پر اس شخص کو پورا غلبہ بخشے غيبه رجلا فاسد الرويّة، وخاطب جو فاسد الخیال اور دنیا کا چاہنے والا ہے ۔ کیا الدنيــا الدنية۔ أيــحــب الـلـه خدا ایسے آدمی کو دوست پکڑ سکتا ہے جس نے امرءا بسط مكيدة شباك الرداء و ہلاکت کی دام محض فریب کی راہ سے بچھائی از همه عیال و اموال بیکبار ببریدم تا آنکه فعل خدا از قوة بفعل آمد و سینه مرا کشادی و بدر مرا نور کامل در کار کردند - پس دو بہرہ ازاں بدست آوردم نورالہام ونور عقل۔ و این همه از فضل خداست و کس را یا رائی آن نه که فضل وی را منع بکند ۔ والہامات من ہمہ پُر از اخبار غیب می باشد - وغیب بحت البته خاصه خدا هست و نمی شود خدا بر غیب غلبه تامه شخصی را که دارندۂ خیالات بد و خوا ہندہ دنیا باشد ۔ آیا ممکن است خدا شخصه را دوست گیرد که دام هلاک مردم از راه مکر و زور گسترده