نجم الہدیٰ — Page 60
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۶۰ نجم الهدى ومع ذالک کنتُ حرَّجتُ علی اور باوجود اس کے میں نے اپنے نفس پر یہ نگلی کر نفسى أن لا أتبع إلهاما أو كرر من رکھی تھی کہ میں کسی الہام کی پیروی نہ کروں مگر الله إعلاما ويوافق القرآن والحديث مرامًا، وينطبق انطباقا تمامًا۔ بعد اس کے کہ بار بار خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کا اعلام ہو اور قرآن اور حدیث سے انکی موافق ہو اور پوری پوری مطابقت ہو ۔ پھر اس کارروائی کیلئے ثم كان شرط منى لهذا الإيعاز أن ایک یہ شرط بھی میری طرف سے تھی کہ میں الہام لا أقبله من غير أن أنظر إلى الاحیاز کے بارے میں اس کے کناروں تک ومن غير أن أشاهد بدائع الإعجاز ۔ نظر ڈالوں اور بغیر مشاہدہ خوارق کے قبول نہ فوالله رأيت في إلهامي جميع هذه کروں ۔ پس بخدا کہ میں نے اپنے الہام میں الأشراط، ووجدته حديقة الحق لا ان تمام شرطوں کو پایا اور میں نے اس کو سچائی کا باغ دیکھا نہ اس خشک گھاس کی طرح جس كالحماط۔ ثم كان هذا بعد ما میں سانپ ہو۔ پھر یہ الہام اس وقت مجھے ملا جبکہ میرے جگر کے ٹکڑے خدا تعالیٰ کے شوق استطارت صدوع کبدی من الحنين إلى ربّى وصمدى، ومُتُ میں اڑے اور عشاق الہی کی موت میرے پر ميتة العشاق، وأحرقت بأنواع آئی اور کئی قسم کے جلانے سے میں جلایا گیا الإحراق، وصدمت بالأهوال اور کئی قسم کے خوفوں سے میں کوٹا گیا نفس خود را تنگ گرفته و پابند آن بودم که در پے بیچ الہامی نروم تا آنکه مکررا از جانب خدا عز اسمه آگاهی داده شوم و با وجود آن با قرآن و حدیث موافقت کلی و مطابقت تامه داشته باشد۔ و بعلا وه بر خود لازم کرده بودم کہ نگا ہے دقیقے درہمۂ اطراف الهام بیندازم و زنهار آنرا قبول نکنم تا آنکه خوارق عجیبه و اعجاز کامل ہمراہ آں نیا بم - اکنوں سوگند بخدائی بزرگ یاد می کنم می گویم که این شرائط را بتمامها در الهام خود موجود می بینم و آنرا بہانے سرسبز و آراستہ می بینم نہ چوں آں گیا ہے کہ مار در زیر آن پنہاں باشد و قطع نظر ازین همه این الهام وقتے نصیب من شد که از شوق الہی جگر من پاره پاره شد و موت عشاق بر من وارد آمد و از گوناگون آتشها بسوختم و از اقسام خوفها کوفته گردیدم و