نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 550

نجم الہدیٰ — Page 9

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۹ نجم الهدى له القبولية في الأرض فيثني عليه قبولیت زمین پر پھیلائی جاتی ہے۔ پس ہر ایک كل من كان من الصالحين۔ وهذا هو جو نیک طینت ہے اس کی تعریف کرتا ہے اور کمال حقيقة العبودية، ومآل أمر يبي عبودیت کی حقیقت کا کمال اور پاک نفسوں النفوس المطهرة، ولا يعرفها إلا کا انجام کار ہے اور اس مقام کو کوئی شخص بجز الذي أُعطى حظا من المعرفة۔ وهذا صاحب معرفت کے نہیں پہچانتا اور یہی نوعِ انسان کی غایت اور عبادتوں کا کمال مطلوب ہے۔ یہی وہ امر ہے جو اولیاء کی امیدوں کا منتہی اور طالبوں کے سلوک کے ختم ہونے کی هو غاية نوع الإنسان، وكماله المطلوب في تعبد الرحمن۔ وهذا هو الذي تنتهي إليه آمال الأولياء ، ويختتم عليه سلوك الطلباء ، جگہ ہے اور اسی کے ساتھ عنایت الہی وتستكمل بها العناية نفوس | الأصفياء۔ وهذا هو لب أعباء برگزیدوں کے نفوس کو مکمل کرتی ہے اور یہی الشريعة، ونتيجة المجاهدات شریعت کے بوجھوں کا مغز اور مجاہدات دینی في الملة، وسرّ ما نزل به کا نتیجہ ہے اور یہ ان امور کا بھید ہے جو حضرت الناموس من الحضرة على قلب جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خير البرية، عليه أنواع السلام والصلاة کی طرف لائے ۔ پس اس نبی پر سلام ۳ مثل این کس در گیتی ستوده و قبولی برائے اوردر دلها ریخته شود۔ پس ہر نیک نہاد اور امی ستاید کمال حقیقه ۳ بندگی و سرانجام کار پاک نفسان همین است و غیر اہل معرفت این مقام را نمی شناسد و ہمیں غایت نوع انسان و کمال مطلوب عبادات همین است ۔ و انجام امید ہائے اولیاء ہمین و آخرین مقامے است که سلوک جو بیندگان حق بدانج منتهی بشود ۔ و ہمیں عنایت الہی تکمیل نفوس برگزیدہ ہارا نماید ۔ و مغز و را از تکلیفات شرعیه همین و نتیجه مجاهدات دینیه همین است و ہمیں سرآں ہمہ امور است کہ حضرت ناموس اکبر از حضرت الوہیت در پیش برگزیده آفرینش (صلی اللہ علیہ وسلم ) آورد