نجم الہدیٰ — Page 8
روحانی خزائن جلد ۱۴ Λ نجم الهدى ثم إذا كان حــمــده بإيثار وجها سر لا يفهمه إلا قلوب الأبدال احمد ہے۔ اور یہ وہ بھید ہے جس کو محض ابدال کے دل سمجھتے ہیں اور کوئی دوسرا سمجھ نہیں سکتا۔ اور الله پھر جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریفیں اس | والإقبال عليه بنفى أهواء النفس وجہ سے تھیں کہ انہوں نے خدا تعالی کو اختیار کر والــحـفــد إليه بإخلاص وصدق لیا تھا اور ہوا نفس سے الگ ہو کر خدا کی طرف وتوحيد، فرجع الله اليه صلة منه متوجہ ہو گئے تھے اور اخلاص اور صدق اور توحید سے اس کی طرف دوڑے تھے۔ سوخدا نے وہ تعریفیں بطور انعام کے ان کی طرف واپس کر دیں اور تمام یگانہ صدیقوں سے اس کی یہی صديق وحيد، فـحـمـد مـحـمـدنـا عادت ہے کہ وہ حامد کومحمود بنا دیتا ہے۔ پس ہمارا في الأرض والسماء بأمر رب في محمد صلی اللہ علیہ وسلم زمین و آسمان میں مجيد۔ وفي هذا تذكرة للعابدين، تعریف کیا گیا اور اس قصے میں پرستاروں کے ما أرسل إلى ربــه مــن تـحـمـيـد وکذالک جرت سُنّته بكل وبشرى لقوم حامدين فإن الله لئے یا د رکھنے کی بات ہے اور خدا کے ثنا ۔ خوانوں کو اس میں بشارت ہے کیونکہ خدا يرد الحمد إلى الحامد ويجعله | تعریف کرنے والے کی تعریف کو اسی کی طرف مـن الــمــحــمــودیــن ، فيُـحـمـد رڈ کر دیتا ہے اور اس کو قابل تعریف ٹھہرا دیتا ہے۔ پس وہ دنیا میں تعریف کیا جاتا ہے اور اس کی لمين، ويوضع و دیگری را نرسد در گرد این کوئی بگردد و چون ستایش آنجناب از این جهت بود که خدا را برگزیده و از آز و ہوائے خود بکلی دامن کشیده و همه تن محصار و بخدا گردیده و از اخلاص و توحید وصدق بسوئی او دویده بود لہذا خدا تشكر أو انعاماً آن همه ستایش بارا بوی بازگردانید و عاده خدا با کل صدیقان یگانه بر همین نیج جاری بوده است که حامد را محمو د ساز د۔ پس نبی ما محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) در زمین و زمان ستوده شد - این قصه خمونه و تذکره ایست از برائی پرستاران خدا و مشر دوه ایست از پئے ستایش کنندگان دے چه خدا را عادة است که ستایش ستایش کنندگان را بدیشان باز میگرداند و اوشان را سزا وار ستایش خلق میسازد