نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 550

نجم الہدیٰ — Page 5

روحانی خزائن جلد ۱۴ نجم الهدى وطهره من لدنه واذ به من لدنه اور اپنے پاس سے پاک کیا اور اپنے پاس سے ب سکھلایا اور برگزیدگی کے پانی سے اپنے وغسله من لدنه بماء الاصطفاء، ادب پاس سے نہلایا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوجب عليه حمد هذا الرب پر اس خدا کی تعریف کرنا واجب ہو گیا جو اس الذي كفل كل أمره بالاستيفاء، کے ہر ایک کام کا آپ متکفل ہوا ۔ اور اپنی پناہ وادخله تحت رداء الايواء کی چادر کے نیچے جگہ دی اور ہر ایک کام وأصــلــح كــل شأنه بنفسه من غير آنحضرت کا اپنی توجہ خاص سے بغیر توسط منة الاساتذة والآباء والأمراء، استادوں اور باپوں اور امیروں کے بنایا اور وأتم عليه من لدنه جميع أنواع اپنے پاس سے اُس پر ہر ایک قسم کی نعمت پوری کی ۔ پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح نے خدائے تعالی کی وہ تعریف کی جو کوئی فکر اس کے بھیدوں تک نہیں پہنچ سکتا اور کوئی آنکھ اس أسراره، ولا تدرک ناظرة حدود کے نوروں کی حدود کو پانہیں سکتی اور اس نے أنواره، وبالغ فى الـحـمـد خدا کی تعریف کو کمال تک پہنچایا یہاں تک کہ حتى غاب وفنا فى أذكاره۔ وأمّا اس کے ذکروں میں گم اور فنا ہو گیا۔ اور اس هذا الحمد الكثير و کے اس قدر تعریف کرنے اور خدا تعالیٰ کو الآلاء والنعماء۔ فحمده روح النبـي بـحـمـد لا يـبـلـغ فـكـر إلـى تعلیم داد و خودش از آب برگزیدگی و بر چیدگی شت وشور فرمود ۔ لہذا واجب آمد بر آنجناب ستالیش پروردگار یکه سازگار وکفیل کل امر او شد و در زیر چادر پناه خودش جائے بداد ۔ وجملۂ کاروے را بذات خویش بے میانجی گری استادان و پدران و تو نگران درست کرد ۔ و تمام نعمتها را بروی از قبل خود اتمام فرمود ۔ لہذا روح نبی صلعم آں حمد خدا وندی را بجا آورد که هیچ فکر و اندیشه بدامان کنہ وے نیارد برسد و بیچ دیده نتواند حد و دنورش را در یابد - و آنجناب ستالیش خداوندی را بمثابه رسانید که در یادش از خود برمید و سر بہ صحرائے گم گشتگی و فنا بکشید وسبب حمد سہو کا تب معلوم ہوتا ہے۔ درست الاساتذة“ ہے۔ (ناشر)