نجم الہدیٰ — Page 6
روحانی خزائن جلد ۱۴ نجم الهدى سر إحماده، فهو بحار فضل الله صاحب تعریف ٹھہرانے کا ستر یہ تھا کہ خدا تعالیٰ وموالات امداده و عناية الله التي نے متواتر اور پیاپے اس پر اپنے فضل نازل کئے اور وہ عنایت اس کے شامل حال کی جس نے ایک ما وكلته طرفة عين إلى سعيه طرفه العین بھی اس کو اپنی کوشش اور سعی کا محتاج نہ کیا۔ یہاں تک کہ وجہ اللہ نے اس کے دل کو واجتهاده، حتى شغفه وجه الله حُبًّا وأوحده في وداده، ففار قلبه لتحميد هذا المحسن حتى صار چیر کر اپنا دخل اس میں کیا اور اپنی محبت میں اس کو یگانہ بنایا۔ پس اس محسن کی تعریف کے لئے اس الحمد عين مراده۔ وهذه مرتبة ما کے دل نے جوش مارا اور خدا تعالیٰ کی تعریف اس أعطاها الله لغيره من الرسل کی دلی مراد ہوگئی۔ اور یہ وہ مرتبہ ہے کہ بجز اس کے والأنبياء والأبدال والأولياء ، کسی کو رسولوں اور نبیوں اور ابدالوں اور ولیوں فإنهم وجدوا بعض معارفهـم میں سے عطا نہیں ہوا کیونکہ اُن لوگوں نے اپنے وعلومهم ونعمهم بوساطة العلماء بعض معارف اور علوم اور نعمتیں بتوسط عالموں والآباء والمحسنين وذوى الآلاء ، اور باپوں اور احسان کرنے والوں کے پائی وأما نبينا صلی اللہ علیہ وسلم تھیں مگر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فوجد كل ما وجد من حضرة الكبرياء، کچھ پایا جناب الہی سے پایا۔ اور جو کچھ ان کو ملا آنکه ستایش خداوندی را بدین غایت ادا ساخت آن که خداوند تعالیٰ شانہ پیاپے مہر بانہائے خود را بروی فرود آورد و عنایتے وکرمے در کا روی کرد که برائے چشم زدن ہم دیر انشد نیاز و احتیاج بکوشش و محنت خود بیارد تا آنکه وجه الله اندرونش را شگافت و خودش در درون در شد و او را در مهر وحب خود یگانه گردانید لهذا دل آنجناب در نیایش و ستایش ہمچو کارساز نیکی کن بجوش آمد ۔ وستایش خداوندی کام جان و گردید۔ و این مرتبه ایست که غیر آنجناب را از انبیاء و اولیاء و ابدال و رسل دست بهم نداد زیرا که اوشان بعضی علوم و معارف را از واسطه آموزگاران و پدران و تربیت کنندگان بدست آوردند - ولی نبی ما ( صلی اللہ علیہ وسلم )