نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page xxii of 550

نجم الہدیٰ — Page xxii

میں آپ نے اس اعتراض کا نہایت شرح و بسط سے جواب دیا ہے۔دُعا اور تدبیر اور تدبیر اور تقدیر کا فلسفہ اور ان میں باہمی موافقت اور مطابقت اور اجابتِ دُعا کی حقیقت اور فرضیت دعا کے اسباب اور یہ کہ دنیا کی تمام حکمتیں دُعا کے ذریعہ سے ظاہر ہوئیں۔اِن جملہ امور پر محقّقانہ اور حکیمانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے۔اور سورۂ فاتحہ کی مختصر تفسیر بیان کرتے ہوئے اﷲ تعالیٰ کی صفت رحیمیت سے ضرورت دعا اور اس کے ثمرات اور فیوض کے یقینی ہونے پر استدلال فرمایا ہے۔علاوہ ازیں اپنے دعویٰ مسیحیت و مہدویت کی صداقت پر نہایت مدلّل اور مؤثر پیرایہ میں بحث کی ہے اور آخر میں شہزادہ عبدالمجید صاحب مرحوم کے ایک قریبی رشتہ دار شہزادہ والا گوہر اکسٹرا اسسٹنٹ کے وساوس کا جواب دیا ہے۔وجہ تسمیہ: اِس کتاب کا ایّام الصلح نام رکھنے کی وجہ آپ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ مسیح موعود کے زمانہ میں یضع الحرب کی پیشگوئی کے مطابق مذہبی جنگیں نہیں ہوں گی اور قومیں ہلاک نہیں ہوں گی بلکہ ایک نئی تبدیلی سے جو دلوں میں پیدا ہو گی باطل ہلاک ہو گا۔’’اور سلامتی اور امن کے ساتھ حق اور توحید اور صدق اور ایمان کی ترقی ہو گی۔اور عداوتیں اُٹھ جائیں گی۔اور صلح کے ایّام آئیں گے تب دنیا کا اخیر ہو گا۔اِسی وجہ سے ہم نے اس کتاب کا نام بھی ایّام الصلح رکھا۔‘‘ (ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴صفحہ ۲۸۶) اہمیّت کتاب: یہ کتاب ایک نہایت شاندار اور اہم کتاب ہے اور اس کی اہمیّت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد سے ظاہر ہے کہ :۔’’بالآخر میں ناظرین کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس کتاب کو سرسری نظر سے نہ دیکھیں۔میں نے ان کو وہ پیغام پہنچایا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ملا ہے اور میں یقین کرتا ہوں کہ میں نے سب پر حجت پوری کر دی ہے۔‘‘ (ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد ۱۴صفحہ ۴۲۴)