نجم الہدیٰ — Page xxiii
زمانۂ اشاعت: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ کتاب اردو میں لکھی اور اِس کا فارسی ترجمہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے کیا۔یہ فارسی ایڈیشن جیسا کہ مولوی دوست محمد صاحب مؤلف تاریخ احمدیت (جلد سوم صفحہ ۲۴) نے لکھا ہے۔اگرچہ اگست ۱۸۹۸ ء میں تیار ہو چکا تھا اور اس کا اعلان بھی الحکم ۱۳؍ اگست ۱۸۹۸ ء میں شائع ہو گیا تھا مگر ایک خصوصی ضمیمہ کے ذریعہ اس کی اشاعت ایّام الصلح اردو کی اشاعت تک (جس میں بعض اضافے کئے جانے ضروری سمجھے گئے تھے مثلاً چند نئے وساوس کا ازالہ۔شمس) مصلحتاً روک دی گئی اور یہ دونوں کتابیں جنوری ۱۸۹۹ء میں ایک ساتھ منظر عام پر آئیں۔(دیکھئے الحکم ۱۰؍ جنوری ۱۸۹۹ء صفحہ ۱۱) حقیقت المہدی ایک عرصہ سے مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف انگریزی گورنمنٹ کو بدظن کرنے کی مہم تیز کر رکھی تھی۔دلائل کے مقابلہ سے عاجز آکر اُس نے گورنمنٹ کو آپ کے خلاف اُکسانا اور اس مقصد براری کے لئے جھوٹی مخبریاں کرنا اپنا شیوہ بنا لیا تھا۔اُس نے بارہا حکّام کے پاس آپ پر یہ جھوٹا الزام لگایا کہ درپردہ یہ شخص باغی ہے اور مہدی سوڈانی سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور گورنمنٹ کا ہرگز خیر خواہ نہیں ہے۔اُسے ڈھیل دینا اور تبلیغ کرنے کی آزادی دینا ہرگز مناسب نہیں۔اور ایک رسالہ انگریزی زبان میں چھپوایا جس میں اپنا خیر خواہ حکومت برطانیہ ہونا ظاہر کیا اور لکھا کہ وہ غازی مہدی کا جو بنی فاطمہ سے ہو گا اور مذہبی جنگیں کرے گا اور سب کافروں کو مسلمان بنائے گا عقیدہ نہیں رکھتا اور نہ ہی انگریزی گورنمنٹ سے جہاد کو جائز خیال کرتا ہے اور وہ ان سب روایات کو جو غازی فاطمی مہدی کے بارہ میں آئی ہیں مجروح ،ضعیف اور وضعی خیال کرتا ہے اور وہ امیر کابل کے پاس بھی پہنچا اور اس سے ملاقات کے بعد اُس نے یہ دھمکی دینا شروع کی کہ وہاں چلو تو پھر زندہ نہ آؤ گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رسالہ حقیقت المہدی میں بٹالوی کے ایسے الزامات اور بہتانات کی مدلّل طور پر تردید فرمائی ہے اور اس کے عقیدہ دربارہ مہدی کو جو اُس نے گورنمنٹ کے پاس ظاہر کیا ایک منافقانہ فعل ثابت کیا ہے۔چنانچہ آپ نے اس رسالہ کے شروع میں فرقہ اہل حدیث کا جن کا مولوی محمد حسین سرگروہ تھا بحوالہ حجج الکرامہ مؤلفہ نواب صدیق حسین خاں جنہیں مولوی محمد حسین بٹالوی اس صدی کا