نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 88 of 550

نجم الہدیٰ — Page 88

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۸۸ نجم الهدى ففكروا أليس هذا رزئية عظمى على وترون أن أفواجا من المسلمین اور آپ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہزار ہا مسلمان مرند ارتدت وخرجت من هذه الملة ہو کر دین اسلام کو چھوڑ گئے ہیں ۔ پس سوچ لو کہ کیا یہ نہایت بڑی مصیبت ہمارے دین محمدی پر نہیں ہے پھر انہوں نے علاوہ بد مذہبی پھیلانے الشريعة المحمدية؟ ثم مع ذالک کے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بھی دیں سبوا نبـيـنـا الـمصطفى، وطعنوا فی اور ہمارے دین اسلام پر اعتراض کئے اور ہجو کی ديننا وبلغوا الأمر إلى المنتهى اور بات کو انتہا تک پہنچا دیا۔ کیا خدا نے ان کو أمكنهم الله منا وما مكننا من العدا؟ ہمیں دکھ دینے کیلئے موقعہ دیا اور ہمیں نہ دیا۔ پس یہ تقسیم تو ٹھیک ٹھیک نہ ہوئی اور اگر آپ تلك إذا قسمة ضيزى۔ وإن كنتم لوگ اور مصیبتوں کے منتظر ہیں پس بجز انا لله کے اور کیا کہیں ۔ کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ هذا الرأى والنهى أتريدون أن ينعدم | اسلام بکنی معدوم ہو جائے اور اسلام اور الإسلام كل الانعدام ولا يبقى اسمه آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دنیا میں نام و ولا اسم نبينا خير الأنام؟ ثم يظهر نشان نہ رہے۔ پھر مسیح موعود دملت اسلام کے فتا المسيح بعد فناء الملة و اختلال ہونے کے بعد اور نظام دین کے خلل پذیر ہونے تنتظرون مصائب أخرى فإنّا لله على شما می بینید ہزاراں مسلمانان جامه ارتداد در بر کرده اند - انصافاً بگوئید بلائے بزرگتر از این بر دین محمدی چه خواهد بود از میں گزشتہ نبی کریم مارا (صلی اللہ علیہ وسلم ) را دشنام دهند و دین متین مارا ہدف اعتراضات سازند و زم و بجا کنند و کار از حد گذرانیدند - آیا خدار یسمان ایشان را در از کرده و بر سر ما مسلط گردانیده که از دست انبار نج و آزار یا ہیم ۔ بخدا این تقسیم کہ خوب نیست و اگر شما در انتظار مصیبت ہائے بزرگتر از این نشسته اید ما بجز از استرجاع چه گوئیم - آیا شما آرزو دارید اسلام بکلی از هم بپاشد واثرے از اسلام و ازان ذات خیر الانام (علیہ الصلوۃ والسلام ) در دنیا نماند و سیح بعد از فنائی مله اسلام