نجم الہدیٰ — Page 89
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۸۹ نجم الهدى النظام، وأنتم تقرء ون أن الملة لا ترى کے پیچھے ظاہر ہو اور آپ لوگ کتابوں میں يوم الزوال بالكلية، ولا تنفك منها پڑھتے ہیں کہ ایسے زوال کا دن اسلام پر کبھی نہیں آئے گا اور شوکت اور قوت کے علامات کبھی اس آثار القوة والشوكة۔ وبينما هي کذالک فينزل المسيح المجدد على رأس المائة، وهو يأتي حكما و عدلا ويقضى بين الأمة۔ فيجمع السعداء | وآراء مختلفة۔ وأسماء هذا المجدد سے علیحدہ نہیں ہوں گے اور اسلام اسی حالت پر ہوگا کہ مسیح موعود صدی کے سر پر نازل ہو جائے گا اور وہ حکم عدل ہو کر آئے گا اور امت کے اختلاف دور کرے گا اور سعید لوگوں کو بعد على كلمة واحدة بعد افتراق المسلمين | اختلافات کے ایک کلمہ پر جمع کر دے گا ۔ اور اس مجدد کے تعین نام ہیں جو احادیث صحیحہ میں ثلاثة وذكرها في الأحاديث بتفریح مذکور ہیں یعنی حکم اور مہدی اور مسیح الصحيحة صريح حكم و مهدی اور جیسا کہ روایت کیا گیا ہے حکم کے نام ومسيح۔ أما الحكم فيما روى أنه کی یہ وجہ ہے کہ مسیح موعود امت کے اختلاف يخرج في زمن اختلاف الأمة، فيحكم کے وقت میں ظاہر ہو گا اور ان میں اپنے بينهم بقوله الفصل والأدلة القاطعة قول فيصل کے ساتھ وہ حکم دے گا جو قریب وعـــنــــد زمــن ظهوره لا توجد انصاف ہوگا اور اس کے زمانہ کے وقت میں کوئی و واشدن شیرازه دین جلوه گر بشود و شما در کتب می خوانید که مثل این روز سیاہ ہرگز بہرہ اسلام نخواہد بود و علامات شوکت و صلابت ابداً از وے منقطع نخواہد گشت ۔ ہم در ایں اثنا مسیح موعود بروز کند واو حکم عادل باشد و اختلافات را از میانه امت رفع ساز دو فرخنده بختان را بعد از پراگند گیها بر یک کلمه جمع آرد و آن مجد دراسه نام است که در احادیث صحیحه به تصریح مذکور است یعنی حکم و مهدی و سیح از قرار روایت حکم بجهت آن است که مسیح موعود در وقت خلاف امت نازل شود و با قول فصل در میانه اختلافات حکمی کند که قرین انصاف باشد در آیا ہے کہ او ظہور فرماید جملہ عقائد